لائے۔ جنت اور اسکے جاں فِزا اَحوال(1) (کہ لَا عَیْنٌ رَاَتْ وَ لَا اُذُنٌ سَمِعَتْ وَ لَا خَطَرَ بِبَالِ اَحَدٍ ’’وہ عظیم نعمتیں وہ نعیم عظمتیں اور جان و دل کو مرغوب ومطلوب(2) وہ لذتیں جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سُنا اور نہ کسی کے دل پر اُن کا خطرہ(3) گزرا۔‘‘)
دوزخ اور اس کے جاں گُزاحالات(4) (کہ وہ ہر تکلیف و اَذیَّت جو اِدراک کی جائے اور تصوّر میں لائی جائے ایک ادنیٰ حصہ ہے اس کے بے انتہا عذاب کا، وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہ) قبر کے نَعِیم وعذاب (کہ وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا) (5) منکر نکیر کے سوال وجواب، روزِ قیامت حساب وکتاب و وَزنِ اعمال (جس کی حقیقت اللّٰہ جانے اور اس کا رسول) و کوثر (کہ میدانِ حشر کا ایک حوض ہے اور جنت کا طویل و عریض چشمہ(6)) وصراط (بال سے زیادہ باریک ، تلوار سے زیادہ تیز، پُشتِ جہنم پر(7) ایک پُل) و شفاعۃ عُصاۃِ اہلِ کبائر (یعنی گناہگارانِ
________________________________
1 - یعنی فرحت انگیز اور خوشیاں بخشنے والے احوال۔
2 - مَن بھاتی، مزیدار اور محبوب۔
3 - خیال گزرا۔
4 - جہنم اور اس کے تکلیف دِہ، اذیت ناک حالات۔
5 - اس میں اس حدیث کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِّنْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ اَوْحُفْرَۃٌ مِّنْ حُفْرِ النَّار۔بیشک قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔(ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ما جاء فی صفۃ اوانی الحوض، ۴/۲۰۹، الحدیث: ۲۴۶۸)
6 - لمبا چوڑاچشمہ ۔
7 - دوزخ کی پیٹھ پر۔