Brailvi Books

دس عقیدے
146 - 193
	(الغرض آپ کی امامت و خلافت پر تمام صحابہ کرام کا اجماع ہے)اور باطل پر اجماعِ اُمّت (خصوصاً اصحابِ حضرت رسالت عَلَیْْہِ وَعَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالتَّحِیَّۃُ کا) ممکن نہیں  ، (اور مان لیا جائے تو غصب و ظلم پر اتفاق سے عِیَاذًابِاللّٰہ سب فُسّاق ہوئے، اور یہی لوگ حاملانِ قرآنِ مبین و راویانِ دینِ متین  ہیں  ،(1) جو انھیں   فاسق بتائے اپنے لیے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم تک دوسرا سلسلہ پیدا کرے یا ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، اسی طرح ان کے بعد خلافت ِ فاروق ، پھر امامتِ ذی النورین ، پھر جلوہ فرمائی ابو الحسنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ)۔

اھل قبلہ کون ؟
شارحِ بخاری حضرتِ علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں: اہل قبلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ان تمام باتوں کو حق کہتے اور مانتے ہوں جو حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے لائے ہیں اور ضروریات دین میں سے کسی ایک کا بھی انکار نہ کرتے ہوں جو شخص اپنے کو مسلمان کہلاتا ہے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہے مگر ضروریا ت دین میں سے کسی کا انکار کرتا ہے وہ اہلِ قبلہ میں سے نہیں ۔ سیِّدُنا امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ ہم اہلِ سنَّت ،اہلِ قبلہ کو کافِر نہیں کہتے ۔اس سے مراد اہلِ قبلہ بمعنی مذکور(یعنی جو معنی پچھلی سطور میں بیان کئے گئے) ہیں اس لئے قادیانی وغیرہ جو کہ ضروریاتِ دین کا انکار کرتے ہیں ان کوضَرور کافِر کہا جائے گا ۔ (نزھۃ القاری ج2ص107) میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:اصطِلاحِ ائمہّ میں اہلِ قبلہ وہ ہے کہ تمام ضَروریات دین پر ایمان رکھتا ہو،ان میں ایک بات کا بھی منکر ہو توقَطعاً  اِجماعاًکافِرمُرتد ہے ایسا کہ جو اسے کافر نہ کہے خود کافر ہے۔         (تمہید الایمان ص103)
(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب،ص۶۴۱)



________________________________
1 -    روشن قرآن کو اٹھانے والے اور مضبوط ومستحکم دین کو بیان کرنے والے ہیں  ۔