و ہُنُود(1) کسی کو انکار نہیں ، اور ان محبانِ خدا و نَوّابانِ مصطفی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ابدًا ابدًا سے ’’ شِیْعَیَانِ علی‘‘ کو زیادہ عداوت کا مبْنٰی یہی ہے کہ ان کے زعم باطل میں استحقاقِ خلافت حضرت مولیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْاَسنٰی میں منحصر تھا۔(2)
جب بحکمِ الٰہی خلافتِ راشدہ اوّل ان تین سردارانِ مؤمنین کو پہنچی، روافض نے انھیں مَعَاذَ اللّٰہ مولیٰ علی کا حق چھیننے والا، اور ان کی خلافت وامامت کو غاصبہ جائرہ ٹھہرایا، اتنا ہی نہیں بلکہ تقیہ شقیہ کی تہمت کی بدولت حضرت اَسَدُاللّٰہ غالب کو عِیَاذًابِاللّٰہ سخت نامرد و بُزدل و تارکِ حق و مُطِیعِ باطل ٹھہرایا: (3) ع
دوستی ٔبے خِرداں دشمنی ست
(بے عقلوں کی دوستی دشمنی ہوتی ہے)
________________________________
1 - ہندو۔
2 - اللّٰہ تعالٰی کو چاہنے والوں اور مصطفٰے کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نائبوں کے ساتھ(اللّٰہ تعالیٰ کاان پر اور ان کی آل پرہمیشہ ہمیشہ درود وسلام ہو ) ان شیعیان علی کو (یعنی حضرت علی کو بلا فصل رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خلیفہ ماننے والوں کو )زیادہ دشمنی اس وجہ سے رہی ہے کہ ان کے فاسد خیال میں خلافت کے حقدار حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔
3 - جب اللّٰہ رَبُّ العزت کے حکم سے خلافتِ راشدہ ان تینوں یعنی بالترتیب حضرت ابوبکر صدیق،حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو ملی تو رافضیوں نے ان تینوں حضرات کو حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا حقچھیننے والا ،اور ان تینوں حضرات کی خلافت وامامت کو ظلم وجبر اور زبردستی کی خلافت کہا، یہی نہیں بلکہ حق کو چھپانے کا الزام لگاکر معاذ اللّٰہ حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوسخت نامرد بزدل ، حق کو چھوڑنے والا اور باطل کی اطاعت کرنے والا کہا ۔ (اللّٰہ تعالٰیہمیں ان لوگوں سے محفوظ رکھے)۔