ملحوظ) و حمایت ِملّت (شریعت کی حمایتوں سے معمور) و پناہِ اُمت سے مُزَیَّن (آراستہ و پیراستہ )، اور عدل و داد (انصاف و برابری)وصِدْق و سَدَاد (رَاسْتِی ودُرُسْتِی) (1)و رُشد و اِرشاد (راست روی و حق نمائی) و قطعِ فساد(2) و قَمْعِ اہلِ اِرتداد (مرتدین کی بیخ کَنِی) سے مُحَلّٰی (سنواری ہوئی)۔
اوّل تو تلویحات و تصریحات (روشن و صریح ارشاداتِ) سیّد الکائنات عَلَیْہِ وَ عَلٰی اٰلِہٖ اَفْضَلُ الصَّلَوَات وَ التَّحِیَّات اس بارے میں بہ کثرت وارِد، دوسرے خلافت اس جناب تقویٰ مآب(3) کی باجماعِ صحابہ واقع ہوئی، (اور آپ کا حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے بعد تخت ِخلافت پر جلوس فرمانا،(4) فرامین و اَحکام جاری کرنا، مَمَالِکِ اِسلامیہ کانَظْم ونَسَق سنبھالنا(5) اور تمام اُمورِ مَمْلکَت(6) و رَزْم و بَزْم کی باگیں اپنے دستِ حق پرست میں لینا (7) و ہ تاریخی واقعہ مشہور و مُتَواتِر اَظْہَر مِنَ الشَّمْس ہے(8) جس سے دنیا میں موافق مخالف(9)حتی کہ نصاریٰ(10) و یہود(11) و مَجُوس(12)
________________________________
1 - ایمان داری وسچائی۔
2 - فتنے کے خاتمے۔
3 - یعنی پرہیزگار صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔
4 - یعنی بیٹھنا۔
5 - اسلامی سلطنتوں کا انتظام سنبھالنا ۔
6 - سلطنت کے تمام معاملات۔
7 - انصاف پسند ہاتھوں میں لینا ۔
8 - سورج سے بھی زیادہ واضح اور روشن ہے۔
9 - دوست د شمن، اپنے پرائے۔
10 - عیسائیت کے ماننے والے عیسائی۔
11 - یہودی۔
12 - سورج اور آگ کو پوجنے والے، آتش پرست۔