Brailvi Books

دس عقیدے
142 - 193
عقیدہ ٔثامنہ (۸) :
   امامتِ صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ
	نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی نِیابَتِ مطلقہ(1)   کو امامتِ کُبریٰ(2) اور اس منصبِ عظیم پر فائز ہونے والے کو اِمام(3)  کہتے ہیں  ۔
	امام المسلمین(4)         حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی نیابت سے مسلمانوں   کے تمام اُمور دینی و دُنیوی میں   حَسْبِ شَرْع(5)تصرفِ عام  کا اختیار رکھتا ہے اور غَیْرِ مَعْصِیت میں  (6)  اس کی اِطاعت تمام جہان کے مسلمانوں   پر فرض ہوتی ہے۔ اس امام کے لیے مسلمان آزاد، عاقل، بالغ، قادر، قُرَشی ہونا(7)شرط ہے، ہاشمی(8) عَلَوِی(9) اور معصوم ہونا اس کی شرط نہیں  ، ان کا شرط کرنا روافض  کا



________________________________
1 -    آٹھواں   عقیدہ صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی امامت کے بارے میں  ۔
2 -    جانشینی وقائم مقامی۔
3 -    سب سے بڑی امامت۔
4 -    پیشوا و رہبر۔
5 -    مسلمانوں   کا امام۔
6 -    مذہبِ اسلام کے مطابق۔
7 -    یعنی نافرمانی اور گناہ کے (کاموں   کے)علاوہ میں  ۔
8 -    یعنی قریشی خاندان سے ہونا۔
9 -    یعنی ہاشمی خاندان جس سے حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  کا تعلق تھا۔
10 -    یعنی وہ شخص جو حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی اولاد تو ہو مگر حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے  بطن سے نہ ہو۔