Brailvi Books

دس عقیدے
141 - 193
مذہب اور اپنا شعار بنائیں   اور ان سے کدورت و دشمنی کو مولیٰ علی سے محبت و عقیدت ٹھہرائیں  ۔ وَ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم۔
	مسلمانانِ اہلسنّت اپنا ایمان تازہ کرلیں   اور سن رکھیں   کہ اگر صحابہ کرام کے دلوں   میں   کَھوٹ،(1) نیتوں   میں   فُتُور(2) اور معاملات میں   فتنہ و فساد ہو(3)  تو ’’رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْْ‘‘(4) کے کوئی معنی ہی نہیں   ہوسکتے۔
	صحابہ کرام کے عنداللّٰہ(5)مرضی وپسندیدہ ہونے کے معنی یہی تو ہیں   کہ وہ مولائے کریم ان کے ظاہر و باطن سے راضی، ان کی نیتوں   اور مَافِی الضَّمِیْرِ(6) سے خوش ہے، اور ان کے اخلاق و اعمال بارگاہِ عزت میں   پسندیدہ ہیں   اسی لیے ارشاد فرمایا ہے کہ { وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ }الاٰیۃ ۔ ’’یعنی اللّٰہ تَعَالٰینے تمہیں   ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمھارے دلوں   میں   آراستہ کر دیاہے اور کفر اور حکم عُدُولی اور نافرمانی تمہیں   ناگوار کردی ہے۔‘‘(7) اب جو کوئی اس کے خلاف کہے اپنا ایمان خراب کرے اور اپنی عاقبت برباد۔ وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہ۔



________________________________
1 -    بغض وکینہ۔
2 -    خرابی۔
3 -    لڑائی جھگڑاہو۔
4 -    یعنی اللّٰہ ان سے راضی ہوا۔
5 -    اللّٰہ کی بارگاہ میں  ۔
6 -    جو کچھ دل میں   ہے۔
7 -    پوری آیت یوں   ہے: { وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَیْكُمُ الْاِیْمَانَ وَ زَیَّنَهٗ فِیْ قُلُوْبِكُمْ وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَؕ-}  (پ۲۶، الحجرات: ۷)