Brailvi Books

دس عقیدے
140 - 193
	پھر مقتولین کی تجہیز و تکفین (1) سے فارغ ہو کر حضرت مولیٰ نے حضرت صدّیقہ کی واپسی کا انتظام کیا اور پورے اعزاز و اِکرام کے ساتھ  محمد بن ابی بکر کی نگرانی میں   چالیس معزز عورتوں   کے جھرمٹ میں   ان کو جانبِ حجاز رخصت کیا، خود حضرت علی نے دور تک مُشَایَعَت کی، (2)  ہمراہ رہے، امام حسن مِیْلوں   تک ساتھ گئے، چلتے وقت حضرت صدیقہ نے مجمع میں   اقرار فرمایا کہ ’’مجھ کو علی سے نہ کسی قسم کی َکدُوْرَت (3)  پہلے تھی اور نہ اب ہے، ہاں   ساس، داماد (یا دیور، بھاوج) میں   کبھی کبھی جو بات ہوجایا کرتی ہے اس سے مجھے انکار نہیں  ۔‘‘ حضرت علی نے یہ سن کر ارشاد فرمایا: ’’لوگو! حضرت عائشہ سچ کہہ رہی ہیں  ، خدا کی قسم! مجھ میں   اور ان میں   اس سے زیادہ اختلاف نہیں   ہے، بہرحال خواہ کچھ ہو یہ دنیا و آخرت میں   تمہارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی زوجہ ہیں   (اور اُمُّ الْمؤمِنِیْن)‘‘ (4)
	اللّٰہ اللّٰہ! ان یارانِ پیکر ِصدق و صَفا میں (5) باہمی یہ رفق و مُودَّت (6)  اور عزت و اِکرام، اور ایک دوسرے کے ساتھ یہ معاملۂ تعظیم و احترام، اور ان عقل سے بیگانوں   اور نادان دوستوں   کی حمایت ِعلی کا یہ عالَم کہ ان پر لعن طعن کو اپنا 



________________________________
1 -    کفن دفن۔
2 -    رخصت کرنے کے لیے دور تک ساتھ گئے۔
3 -    رنجش۔   
4 -    البدایۃ والنہایۃ، مسیر علی ابن ابی طالب۔۔۔الخ، ۵/۳۴۳۔
5 -    ان سراپا سچائی اور خلوص والے احباب میں  ۔
6 -    آپس میں   اتنی نرمی اور محبت۔