Brailvi Books

دس عقیدے
14 - 193
 ہیں  (1) اور انکے علاوہ تکوین و تخلیق(2) و رزّاقیت،(3) یعنی(4) مارنا، جِلانا،(5) صحت دینا، بیمار کرنا، غنی کرنا، فقیر کرنا، ساری کائنات کی ترتیب فرمانا اور ہر چیز کو بَتَدْریج(6)اس کی فطرت کے مطابق کمالِ مقدار تک پہنچانا، اِنہیں   ان کے مناسبِ احوال روزی رزق مہیا کرنا) وغیرہا (صفات جن کا تعلق مخلوق سے ہے اور جنہیں   صفاتِ اضافیہ اور صفاتِ فِعْلِیَّہ بھی کہتے ہیں  (7)اور جنہیں   صفاتِ تخلیق و تکوین کی تفصیل سمجھنا چاہیے ، اور صفاتِ سَلْبِیَّہ یعنی وہ صفات جن سے اللّٰہ تعالیٰ کی ذات مُنَزَّہ اور مُبَرَّا ہے،(8)مثلاً وہ جاہل نہیں  ، عاجز نہیں  ، بے اختیار وبے بس نہیں  ،کسی کے ساتھ مُتَّحِد نہیں   جیسا کہ برف پانی میں   گُھل کر ایک ہوجاتا ہے، غرض وہ اپنی صفاتِ ذاتیہ ، صفاتِ اضافیہ اور صفاتِ سلبیہ) تمام صفاتِ کمال سے اَزَلًا اَبَدًا(9) موصوف (ہے، اور جس طرح اس کی ذات قدیم اَزَلی اَ بَدی ہے اس کی تمام



________________________________
1 -    یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی ذاتی صفات ہیں     ، یعنی وہ صفات جن کی ضد کے ساتھ موصوف نہ ہوسکے،یعنی مَعَاذَاللّٰہ اس کو مردہ ، جاہل، عاجز، مجبور، بہرا، اندھا، گونگا، بیکار نہیں     کہہ سکتے کیونکہ یہ سب باتیں     عیب اور نقصان کی ہیں     ، اور وہ عیب ونقصان سے پاک ہے، ان صفات کو اُمَّہَاتُ الصِّفَات بھی کہتے ہیں    ۔           (توضیح العقائد،ص۳۱ ملتقطًا)
2 -    پیدا کرنا اور وجود میں     لانا۔	
3 -    روزی دینا۔
4 -    یعنی سے پچھلے پورے جملہ (تکوین ، تخلیق، رزّاقیت) کی وضاحت ہے۔
5 -    یعنی زندہ کرتا۔
6 -    درجہ بدرجہ۔
7 -    صفا ت اضافیہ و فعلیہ وہ صفات ہیں     کہ جن صفا ت سے وہ موصوف ہو ان کی ضد سے بھی موصوف ہو، مگر اس کا تعلق اور اثر غیر کے ساتھ ہوگا ، جیسے مارنا جلانا صحت دینا بیمار کر ڈالنا، غنی فقیر بنا دینا، وغیرہ وغیرہ۔ان صفات کو اضافیہ بھی کہتے ہیں    ۔        (توضیح العقائد،ص۳۲)
8 -    یعنی پاک اور بری ہے۔
9 -    ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔