فرمایا کہ: ’’اِنْ شَآءَ اللّٰہُ تَعَالٰی میں اور عثمان اور طلحہ و زبیر ان میں سے ہیں جن کے حق میں اللّٰہ تعالٰینے یہ ارشاد فرمایا کہ { نَزَعْنَا } الاٰیۃ ۔‘‘(1)
حضرت مولیٰ علی کے اس ارشاد کے بعد بھی ان پر الزام دینا عقل و خِرَد سے جنگ ہے، مولیٰ علی سے جنگ ہے، اور خدا وَ رسول سے جنگ ہے، وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہِ، جب کہ تاریخ کے اَوراق شاہد عادل ہیں کہ حضرت زبیر کو جونہی اپنی غلطی کا احساس ہوا اُنہوں نے فوراً جنگ سے کنارہ کشی کرلی۔(2) اور حضرت طلحہ کے متعلق بھی روایات میں آتا ہے کہ اُنہوں نے اپنے ایک مدد گار کے ذریعے حضرت مولیٰ علی سے بیعت ِاِطاعت کرلی تھی۔(3)اور تاریخ سے ان واقعات کو کون چھیل سکتا ہے کہ جنگ جَمَل ختم ہونے کے بعد حضرت مولیٰ علی مرتضیٰ نے حضرت عائشہ کے برادر ِمعظم محمد بن ابی بکر کو حکم دیا کہ وہ جائیں اور دیکھیں کہ حضرت عائشہ کو خدا نخواستہ کوئی زخم وغیرہ تو نہیں پہنچا، بلکہ بَعُجْلَتِ تمام (4) خود بھی تشریف لے گئے اور پوچھا: ’’آپ کا مزاج کیسا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اچھی ہوں ۔‘‘ مولیٰ علی نے فرمایا: ’’اللّٰہ تعالیٰ آپ کی بخشش فرمائے۔‘‘ حضرت صدّیقہ نے جواب دیا: ’’اور تمہاری بھی۔‘‘
________________________________
1 - الدر المنثور ، پ۱۴، الحجر، تحت الاٰیۃ: ۴۷، ۵ / ۸۵ ، اسد الغابۃ ، طلحۃ بن عبید اللّٰہ ، ۳ / ۸۶ ۔
2 - اسد الغابۃ ، الزبیر بن العوام، ۲/۲۹۷۔
3 - اسد الغابۃ ، طلحۃ بن عبید اللّٰہ، ۳/۸۵۔
4 - جلدی سے۔