صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم تک پہنچتی ہے کہ حضور نے اپنی پیش گوئی (1) میں ان کے اس فعل کو پسند فرمایا اور ان کی سِیادت (2) کا نتیجہ ٹھہرایا ’’کَمَا فِیْ صَحِیْحِ الْبُخَارِیْ‘‘ (جیسا کہ ’’صحیح بخاری‘‘ میں ہے)۔
صادق و مصدوق (3) صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نسبت فرمایا: ((اِنَّ ابْنِیْ ھَذَا سَیِّدٌ لَعَلَّ اللّٰہَ اَنْ یُّصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیْمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ)) (میرا یہ بیٹا سید ہے، سیادت کا علمبردار) ’’میں اُمید کرتا ہوں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے باعث دو۲ بڑے گروہِ اسلام میں صلح کرادے۔‘‘ (4)
آیۂ کریمہ کا ارشاد ہے: { وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ } (5) ’’اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے۔‘‘
’’جو دنیا میں ان کے درمیان تھے اور طبیعتوں میں جو َکدُوْرت وکشیدگی تھی (6) اسے رِفق و الفت(7) سے بدل دیا اور ان میں آپس میں نہ باقی رہی مگر مُودَّت و محبت۔‘‘ اور حضرت علی مرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی کہ آپ نے
________________________________
1 - یعنی پیشین گوئی۔
2 - قیادت۔
3 - سچے و رَاست گو آقا۔
4 - بخاری،کتاب الصلح،باب قول النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ للحسن۔۔۔الخ،۲/۲۱۴،حدیث:۲۷۰۴۔
5 - پ۷، الاعراف: ۴۳۔
6 - رنجش وشکر رنجی تھی۔
7 - نرمی اورمحبت۔