پر تیس سال رہی اور سیدنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے چھ ماہ مدتِ خلافت پر ختم ہوئی) عین مَعْرِکَۂ جنگ میں (1) (ایک فوجِ جرار کی ہمراہی کے باوجود) (2) ہتھیار رکھ دیے (بالقصد والا ختیار) اور مُلک (اور اُمور مسلمین کا اِنتظا م و اِنصرام) امیر معاویہ کو سپرد کر دیا (اور ان کے ہاتھ پر بیعت ِاِطاعت فرمالی)۔
اگر امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَلْعِیَاذُ بِاللّٰہ(3) کافر یا فاسق فاجر تھے یا ظالم جائر تھے یا غاصب جابر تھے (ظلم وجور و جبر پر کمر بستہ) (4) تو الزام امام حسن پر آتا ہے کہ انھوں نے کاروبارِ مسلمین و انتظامِ شَرْع و دِین(5) باختیارِ خود (بلا جبر و اِکراہ بلا ضرورتِ شرعیہ، باوجود مَقْدِرَت) (6) ایسے شخص کو تفویض فرما دیا (اور اس کی تَحویل میں دے دیا) اور خیر خواہی اسلام کو مَعَاذَاللّٰہ کام نہ فرمایا (اس سے ہاتھ اُٹھا لیا)۔
اگر مدتِ خلافت ختم ہوچکی تھی اور آپ (خود) بادشاہت منظور نہیں فرماتے (تھے) تو صحابہ حجاز میں کوئی اور قابلیت ِنظم و نسق دین(7) نہ رکھتا تھا جو اِنہیں کو اختیار کیا (اور اِنہیں کے ہاتھ پر بیعت ِاِطاعت کرلی) حَاشَ لِلّٰہ! (8) بلکہ یہ بات خود رسول اللّٰہ
________________________________
1 - عین میدانِ جنگ میں ۔
2 - ایک بہت بڑے لشکر کے ہمراہ ہونے کے باوجود۔
3 - اللّٰہ کی پناہ۔
4 - یعنی ظلم وستم کرنے پر ہر وقت تیار۔
5 - مسلمانوں کے کام کاج اور ان کے د ین و مذہب کے معاملات۔
6 - طاقت وقدرت ہونے کے باوجود بغیر کسی زور زبردستی اور بغیرکسی شرعی مجبوری کے۔
7 - دین کے انتظامات کو سنبھالنے کی صلاحیت۔
8 - اللّٰہ کی پناہ۔