رہیں اور قطعِ (مسافت) نہ کرسکیں ، مگر فضلِ صحبت (و شرفِ صحابیت وفضل) وشرفِ سعادت خدائی دَین ہے(1) (جس سے مسلمان آنکھ بند نہیں کرسکتے تو ان پر لعن طعن یا ان کی توہین و تنقیص کیسے گوارا رکھیں اور کیسے سمجھ لیں کہ مولیٰ علی کے مقابلے میں انھوں نے جو کچھ کیا بربنائے نفسانیت تھا،صاحبِ ایمان مسلمان کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی۔ ہاں ایک بات کہتے ہیں اور ایمان لگتی کہتے ہیں کہ) ہم تو بِحَمْدِ اللّٰہ! (2) سرکارِ اَہلِ بیت ِ(کرام) کے غلامانِ خانہ زاد ہیں(3) (اور موروثی(4) خدمت گار، خدمت گزار) ہمیں (امیر) معاویہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ) سے کیا رشتہ خدانخواستہ ان کی حمایت بے جا کریں ، مگر ہاں اپنی سرکار(5) کی طرفداری (اور اَمر ِحق میں ان کی حمایت و پَاسْداری) اور ان (حضرت امیر معاویہ) کا (خصوصاً) اِلزام بد گویاں(6) (اور دَرِیدَہ دَہنُوں ، بد زبانوں کی تہمتوں ) (7) سے بَری رکھنا منظور ہے کہ ہمارے شہزادۂ اکبر حضرت سبط (اکبر، حسن) مجتبیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حسب ِبشارت اپنے جدِّ امجد(8)سید المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے بعد اِختتامِ مدّت (خلافت ِراشدہ کہ منہاجِ نبوّت
________________________________
1 - اللّٰہ کی عطا ہے۔
2 - اللّٰہ کے کرم سے۔
3 - گھر کے غلام ہیں ۔
4 - خاندانی، جَدِّی پُشتی۔
5 - اپنے آقا۔
6 - جھوٹے بہتانوں ۔
7 - گستاخوں اور گالی گلوچ کرنے والوں کے الزاموں ۔
8 - اپنے نانا جان۔