سوا کسی کے لحاف میں ۔(1) وہ امّ المومنین کہ مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اگر سفر میں بے ان کے تشریف لے جائیں ان کی یاد میں : ((وَا عُرُوْسَاہُ)) فرمائیں ۔(2) وہ صدیقہ کہ یوسف صدّیق عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام(3) کی براء َت و پاکدَامنی کی شہادت اہلِ زلیخا سے ایک بچہ ادا کرے۔(4)
________________________________
1 - بخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ، باب فضل عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا ، ۲ / ۵۵۲،حدیث:۳۷۷۵،ترمذی،کتاب المنا قب،باب فضل عائشۃرضی اللّٰہ عنہا،۵/۴۶۹،حدیث:۳۹۰۵۔
2 - المواہب اللدنیۃ،المقصد الثانی،الفصل الثالث۔۔۔الخ،۱/۴۰۶۔
3 - یعنی حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام۔
4 - یہاں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس میں حضرت یوسفعَلَیْہِ السَّلَام کی بے گناہی پر ایک تین یا چار ماہ کے دودھ پیتے بچے نے گواہی دی چنانچہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب زلیخا نے حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کو گناہ پر اکسایا اور حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام اس سے اپنے آپ کو بچاکر دوڑے تو زلیخا بھی آپ کے پیچھے دوڑی یہاں تک کہ اس نے آپ کا کرتہ پیچھے سے پکڑ ا تو وہ چاک ہوگیا، اتنے میں زلیخا کا شو ہر جو مصر کا بادشاہ تھا دروازے پر ملا تو زلیخا نے حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام پر تہمت لگاتے ہوئے اپنے شوہر سے کہا کہ اس کی کیا سزا ہے جس نے آپ کی بیوی کے ساتھ برا فعل کرنے کی کوشش کی، اس پر حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی برأ ت کا اظہار کیا تو عزیز مصر بولا: میں آپ کو کیونکر سچا مان لوں کہ آپ نے یہ کام نہیں کیا، اس پر یوسف عَلَیْہِ السَّلَام نے زلیخا کے ماموں کے شیر خوار بچے کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھ لو، اس بچہ کی عمر ابھی صرف تین یا چار مہینے تھی گہوارے میں جھول رہا تھا ، وہ بچہ فوراً اٹھ کر چِلاّیا اور عزیز مصر کے آگے کھڑا ہو کر بول پڑا : ’’حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام سزا کے لائق نہیں بلکہ وہ تو لطف اور رحمت کے مستحق ہیں ۔‘‘ عزیز مصر بچے کی گفتگو سے متعجب ہوا کہ بچہ ہو کر قانون کے دائرے میں کیسے بول رہا ہے، کہا:’’ اے بچے! تو ابھی شیر خوار ہے لیکن کیسی اچھی بات کہہ رہا ہے، واضح کر دے کہ میرے گھر کو کس نے آگ لگائی ہے۔‘‘ بچہ بولا: جس کو قرآن مجید نے یوں ارشاد فرمایا: