حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم انھیں اپنی سب اَزواجِ مطہرات میں زیادہ چاہیں ، جہاں منہ رکھ کر عائشہ صدیقہ پانی پئیں حضور اُسی جگہ اپنا لَبِ اقدس(1) رکھ کر وہیں سے پانی پئیں ،(2)یوں توحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی سب اَزواج (مطہرات، طیبّات طاہرات) دنیاو آخرت میں حضور ہی کی بیبیاں ہیں مگر عائشہ سے محبت کا یہ عالَم ہے کہ ان کے حق میں اِرشاد ہوا کہ ’’یہ حضور کی بی بی ہیں دنیا و آخرت میں ۔‘‘(3)
حضرت خیر النساء یعنی فاطمہ زہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو حکم ہوا ہے کہ فاطمہ! تو مجھ سے محبت رکھتی ہے تو عائشہ سے بھی محبت رکھ کہ میں اسے چاہتا ہوں (چنانچہ ’’صحیح مسلم‘‘ میں ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے سیّدہ فاطمہ سے فرمایا: ((اَیْ بُنَیَّۃُ! اَلَسْتِِ تُحِبِّیْنَ مَا اُحِبُّ؟)) فَقَالَتْ: بَلٰی، قَالَ:((فَاَحِبِّیْ ہَذِہٖ)) ’’پیاری بیٹی! جس سے میں محبت کرتا ہوں کیا تو اس سے محبت نہیں رکھتی؟ عرض کیا : بالکل یہی درست ہے (جسے آپ چاہیں میں ضرور اسے چاہوں گی) فرمایا: تب تو بھی عائشہ سے محبت رکھا کر۔‘‘(4) سوال ہوا: سب آدمیوں (5)میں حضور کو کون محبوب ہیں ؟ جواب عطا ہوا: ’’عائشہ۔‘‘(6)
________________________________
1 - مبارک ہونٹ۔
2 - مسلم،کتاب الحیض،باب جواز غسل الحائض۔۔۔الخ،ص۱۷۱،حدیث:۳۰۰۔
3 - ترمذی، کتاب المناقب،باب فضل عائشۃ،۵/۴۷۰، حدیث: ۳۹۰۶۔
4 - مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ،باب فی فضل عائشۃ، ص۱۳۲۵، حدیث: ۲۴۴۲۔
5 - یعنی لوگوں ۔
6 - ترمذی، کتاب المناقب، ۵/۴۷۲، حدیث: ۳۹۱۱۔