(کہ اس کا قُرب ماپ و پیمائش میں سما سکے۔)(1)
مَلِک(وسلطان و شہنشاہِ زمین و آسمان)ہے مگر بے وزیر،(2) (جیسا کہ سلاطینِ دنیا کے وزیر باتدبیر ہوتے ہیں کہ اس کے امورِ سلطنت میں اس کا بوجھ اٹھاتے اور ہاتھ بٹاتے ہیں ۔) والی (ہے، مالک و حاکم علی الاطلاق ہے، جو چاہے اور جیسا چاہے کرے مگر)بے مُشِیر، (نہ کوئی اس کو مشورہ دینے والا، نہ وہ کسی کے مشورہ کا محتاج، نہ کوئی اس کے ارادے سے اسے باز رکھنے والا، ولایت، ملکیت، مالکیت، حاکمیت کے سارے اختیارات اسی کو حاصل، کسی کو کسی حیثیت سے بھی اس ذاتِ پاک پر دَسْتْرَس نہیں ، مُلک و حکومت کا حقیقی مالک کہ تمام موجودات اس کے تحتِ مِلک و حکومت ہیں ، اور اس کی مالکیت و سلطنت دائمی ہے جسے زَوال نہیں )۔
حیات۱ و کلام۲ و سمع۳ و بصر۴ و ارادہ۵ و قدرت۶ و علم۷ (کہ اس کے صفاتِ ذاتیہ
________________________________
1 - ا اِس کا قَریب ہونا ،ماپ اور پیمائش کے اعتبار سے نہیں کہ اتنے فٹ یا کلو میٹر ہم سے قریب یا دُورہے، بلکہ وہ اپنی قدرت وعلم ورحمت کے اعتبار سے ہماری ’’شہ رگ‘‘ سے بھی زیادہ قریب ہے، جیسا کہ خود ارشاد فرماتاہے: وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ(۱۶)ترجمۂ کنزالایمان : اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں ۔ (پ ۲۶، ق: ۱۶)
2 - یعنی زمین وآسمان کا بادشاہ ہے مگر اِسے زمین و آسمان کے معاملات سنبھالنے میں کسی کی مددکی ضرورت نہیں ، جب کہ دُنیا کے بادشاہوں کو اُمورِ سلطنت سنبھالنے کے لیے ہوشیار اور عقلمند وزیر کی ضرورت ہوتی ہے جو اِس بادشاہ کے کاموں میں شریک ہو کر اِس کا بوجھ ہلکا کرے اور ہاتھ بٹائے ۔