پر جواِن کے لیے شرع میں ثابت ہوئے رکھتے ہیں ، کسی کو کسی پر اپنی ہوائے نفس(1)سے فضیلت نہیں دیتے، اور ان کے مشاجرات(2)میں دَخْل اندازی(3) کو حرام جانتے ہیں ، اور ان کے اختلافات کو ابوحنیفہ و شافعی جیسا اختلاف سمجھتے ہیں ،(4) تو ہم اہلسنّت کے نزدیک ان میں سے کسی اَدنیٰ صحابی پر بھی طعن جائز نہیں چہ جائیکہ(5) اُمّ المومنین صدیقہ (عائشہ طیبہ طاہرہ) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی جنابِ رفیع (اوربارگاہِ وقیع) (6) میں طعن کریں ، حاش! (7)یہ اللّٰہ و رسول کی جناب میں گستاخی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ان کی تَطْہِیْر و بَرِیَّت (پاکدامنی و عفت(8) اور منافقین کی بہتان تراشی سے براء ت) (9) میں آیات نازل فرمائے اور ان پر تہمت دھرنے(10) والوں کو وعیدیں عذابِ الیم کی سنائے۔(11)
________________________________
1 - نفسانی خواہشات۔
2 - اختلافات۔
3 - مداخلت۔
4 - یعنی جس طرح حنفیوں اور شافعیوں میں بعض فروعات میں اختلافات ہیں لیکن اس کے باوجودوہ ایک دوسرے کو گمراہ یا فاسق نہیں کہتے۔
5 - پھر کیونکر۔
6 - بلند مرتبے والے دربار۔
7 - خدا کی پناہ۔
8 - پارسائی وپرہیزگاری۔
9 - منافقین کی جھوٹی تہمت سے بچاؤ ۔
10 - الزام لگانے۔
11 - دردناک عذاب کی وعیدیں سنائے۔