Brailvi Books

دس عقیدے
128 - 193
عقیدۂ سابعہ (۷) :
  مشاجراتِ صحابۂ کرام
	حضرت مُرْتَضَوِی  (امیر المومنین سیدنا علی مرتضیٰ ) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے جنہوں   نے مشاجرات و منازعات کیے(1) (اور اس حق مآب صائب الرائے(2)   کی رائے سے مختلف ہوئے ، اور ان اختلافات کے باعث ان میں   جو واقعات رُونما ہوئے کہ ایک دوسرے کے مَدِّ مُقَابِل(3)  آئے مثلاً : جنگ جَمَل میں   حضرت طلحہ وزبیر و صدّیقہ عائشہ اور جنگِ صِفِّیْن میں   حضرت امیر معاویہ بمقابلہ مولیٰ علی مرتضیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ)،ہم اہلسنّت ان میں   حق، جانبِ جناب مولیٰ علی (مانتے) اور ان سب کو (مَورِدِ لَغْزِش) بَر غلَط و خطا(4)  اور حضرت اَسَدُاللّٰہِی کو(5) بدرجہا ان سے اَکمل و اَعلیٰ جانتے ہیں   مگر بایں   ہمہ بلحاظِ احادیثِ مذکورہ (6) (کہ ان حضرات کے مناقب و فضائل میں   مروی ہیں  ) زبانِ طعن وتشنیع(7) ان دوسروں   کے حق میں   نہیں   کھولتے اور اُنھیں   ان کے   ؎  مراتب    



________________________________
1 -    ساتواں   عقیدہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اختلافات کے بارے میں  ۔
2 -    اختلافات اور جھگڑے کئے۔
3 -    درست رائے والے۔
4 -    مقابلے کے لئے آمنے سامنے۔
5 -    یعنی حضرت علیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حق پر اور دیگر کو بھول چوک اور نسیان پر مانتے ہیں  ۔
6 -    اللّٰہ کے شیر یعنی حضرتِ علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو۔
7 -    اس تمام کے باوجود احادیثِ مبارکہ کا اعتبار کرتے ہوئے۔
8 -    لعنت و ملامت والی زبان۔   ؎  نوٹ: بریلی شریف سے شائع ہونے والے رسالہ میں   مذکور کہ ’’یہاں   اصل میں  بہت بیاض ہےدرمیان میں   کچھ ناتمام سطریں   ہیں   مناسبت مقام سے جو کچھ فہم قاصر میں   آیا بنادیا۱۲۔‘‘ اس فقیر نے ان اضافوں   کو اصل عبارت سے ملا کر قوسین میں   محدود کردیا ہے تاکہ اصل و اضافہ میں   امتیاز رہے اور ناظرین کو اس کا مطالعہ سہل ہو، اس میں   غلطی ہو تو فقیر کی جانب منسوب کیا جائے۔  (محمد خلیل عُفِیَ عَنْہُ(