اللّٰہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم ) کے خلفائے کرام میں حضرت سِبْط اصغر (سیدّنا امام حسین) وجناب خَواجَہ حسن بصری کو تنزُّلِ ناسوتی ملا(1)اور حضرت سِبْط اکبر (سیدنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ) سے کوئی سلسلہ جاری نہ ہوا حالانکہ قربِ ولایت ِامام مجتبیٰ (سیدنا امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ) ولایت و قربِ خواجہ (حسن بصری) سے بالیقین اَتم واعلیٰ (برتر و بالا)، اور ظاہرِ احادیث سے سبط اصغر شہزادہ گلگوں قبا (شہید ِکرب وبلا) پر بھی ان کا فضل ثابت(2) رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْن۔(3)
بے عطائے الہٰی علمِ غیب کا ماننا کیسا؟
اہلسنّت کا عقیدہ یہ ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے علمِ غیب حاصِل ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، 'بہارِ شریعت'جلد اوّل صَفْحَہ 10پر صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:کوئی شخص غیرِ خدا کے لئے ذاتی (یعنی بغیر اﷲکے دیئے)علم غیب مانے وہ کافر ہے۔ (ماخوذ ازبہارِ شریعت ج1حصہ1 ص 10) یونہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کے بِغیر کسی کیلئے ایک ذرّے کا علم یا ایک ذرّے کی مِلکیَّت ثابِت کرنے والا کافر ہے ۔ اہلِسنَّت کا یہی عقیدہ ہے کہ انبیاء و اولیاء کو جو غیب کا علم ہے یا ان میں دیگر جو بھی صِفات پائی جاتی ہیں وہ سب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے ہیں۔(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ،ص ۲۲۱)
________________________________
1 - یعنی مخلوق کی راہنمائی کے لیے توجہ فرمانے اور سلسلۂ بیعت و ارادت کو جاری رکھنے کا منصب ملا۔
2 - چنانچہ بظاہر حضرت امام حَسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کسی سلسلۂ بیعت و ارادت کا جاری نہ ہونے کے باوجود آپ کی ولایت حضرت امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے افضل و اعلیٰ بلکہ بعض اَحادِیث سے توآپ کاحضرت سیدنا امام حُسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھی افضل ہونا ثابت ہے۔
3 - اللّٰہ تَعَالٰی ان سب سے راضی ہوا۔