(اور اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ)ان کی سیر فِی اللّٰہِ اگلوں سے بڑھ جائے(اور یہ دعوت خلق ور ہنمائی مخلوق کے باعث بارگاہِ الٰہی میں ان سے سوا عزت و منزلت اور ثواب میں کثرت پاجائیں )۔ہاں یہ ایک فضل جداگانہ ہے(1)کہ انھیں ملا اور دوسروں کو عطا نہ ہوا، تو یہ کیا؟ (اوراسی کی تخصیص کیسی ؟)اس کے سوا صدہا خصائص(2) حضرت مولیٰ کو ایسے ملے کہ شیخین کو نہ ملے، مگر (بارگاہِ الٰہی میں )قرب و رفعتِ درجات میں اُنہیں کو(3) اَفْزُونی رہی(4) (اُنہیں کو مَزَیّت ملی(5)اور انہیں کے قدم پیش پیش رہے) ورنہ کیا وجہ ہے کہ ارشاداتِ مذکورہ بالامیں اُنھیں (6)ان سے افضل و بہتر کہا جاتا ہے (اور وہ بھی علی الاطلاق کسی جہت و حیثیت کی قید کے بغیر)اور ان (یعنی حضرت مولیٰ علی مرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗ الْاَسْنٰی )کی افضیلت (اور ان کی(7)ان حضرات پر تفضیل ) کا بہ تاکیدِ اَکِیْد (مؤکد در مؤکد) (8) انکار کیاجاتا ہے حالانکہ ادنیٰ ولی، اعلیٰ ولی سے افضل نہیں ہوسکتا ہے، آخر دیکھئے حضرت امیر (مولیٰ علی کَرَّمَ
________________________________
1 - الگ مہربانی وعنایت ہے۔
2 - سینکڑوں فضا ئل۔
3 - یعنی شیخین حضرت ابوبکر وعمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو۔
4 - بلند مرتبے ومقام میں زیادتی رہی۔
5 - یعنی فضیلت و برتری ملی۔
6 - یعنی شیخین کو۔
7 - یعنی حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکی۔
8 - بہت شدت کے ساتھ۔