Brailvi Books

دس عقیدے
125 - 193
 سلوک  تمام ہوا، یعنی: سیر اِلَی اللّٰہ سے فراغت کے بعد سیر فِی اللّٰہ شروع ہوتی ہے اور اس کی نہایت و حَد نہیں)، جب  (عالم لاہوت پر پہنچ کر) ماسوائے الٰہی  آنکھوں   سے گر گیا(1) اور مرتبۂ فنا تک پہنچ کر آگے قدم بڑھا تو وہ سیر فِی اللّٰہ ہے اس کے لیے انتہا نہیں   اور یہیں   تفاوتِ قُرب (بارگاہِ الٰہی میں   عزت و منزلت اور کثرتِ ثواب میں   فرق) جلوہ گر ہوتا ہے،(2) جس کی سیر فِی اللّٰہ زائد وہی خدا سے زیادہ  نزدیک، پھر بعضے بڑھتے چلے جاتے ہیں   (اور جذبِ الٰہی(3)  انھیں   اپنی جانب کھینچتا رہتا ہے ان کی یہ سیر کبھی ختم نہیں   ہوتی)۔
	 اور بعض کو دعوتِ خلق (و رہنمائیِ مخلوقِ الٰہی)کے لیے منزلِ ناسوتی عطا فرماتے ہیں   (جسے عالَمِ شہادت و عالَمِ خلق وعالَمِ جسمانی  وغیرہ بھی کہتے ہیں  ، اور اس منزل میں   تَعَلُّق مَعَ اللّٰہِ کے ساتھ ان میں   خلائق  سے علاقہ پیدا کردیا جاتا ہے اور وہ خلقِ خدا کی ہدایت کی طرف بھی متوجہ رہتے ہیں  ) (4)ان سے طریقہ خِرقہ وبیعت(5)  کا رواج پاتا ہے اور سلسلۂ طریقت   جنبش  میں   آتا ہے مگر یہ معنی اسے مُسْتَلْزَم  نہیں  ،(6) 



________________________________
1 -    اللّٰہ تبارک وتعالٰی کے سوا ہر چیز آنکھوں   سے گرگئی۔
2 -    ظاہر ہوتا ہے۔
3 -    اللّٰہ رب العزت کی محبت، اس کا قرب۔
4 -    یعنی ان کا اللّٰہ سے بھی رابطہ رہتا ہے اور بندوں   سے بھی، وہ اللّٰہ کی عبادت بھی کرتے ہیں   اوراس کے بندوں   پر بھی نظر رکھتے ہیں  ۔
5 -    پیری مریدی۔
6 -    ضروری نہیں  ۔