Brailvi Books

دس عقیدے
124 - 193
 سے بالا)، (ہاں  ) مگر ایک درجہ قُرب ِالٰہی جَلَّ جَلَالُـہٗ وَ رَزَقَنَا اللّٰہُ کا (ضروری اللحاظ، اور خصوصاً حضراتِ علماء و فضلاء اُمّت کی توجہ کا مستحق ہے اور وہ یہ ہے کہ مرتبۂ تکمیل پر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے جانب ِکمالاتِ نبوت حضراتِ شیخین کو قائم فرمایا، اور جانب ِکمالاتِ ولایت  حضرت مولا علی مُشکل کُشاکو، تو جملہ اولیائے مابعد نے  (1) مولیٰ علی ہی کے گھر سے نعمت پائی، انہیں   کے دستْ نِگر  تھے،  (2)انہیں   کے دستْ نِگر ہیں   اور انہیں   کے دستْ نِگر رہیں   گے) پر ظاہر ہے کہ سیر اِلَی اللّٰہ  (3) میں   تو سب اَولیاء برابر ہوتے ہیں   اور وہاں   لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ  (4) (’’ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں   فرق نہیں   کرتے۔‘‘) کی طرح لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ اَوْلِیَائِـہٖ (ہم اس کے دوستوں   میں   کوئی تفریق نہیں   کرتے)  کہا جاتا ہے  (یعنی تمام اولیاء اللّٰہ اصل طریقِ ولایت یعنی سیر اِلَی اللّٰہ میں   برابر ہوتے ہیں   اور ایک دوسرے پر سبقت و فضیلت کا قول باعتبار سیر فِی اللّٰہ  (5)   کیا جاتا ہے کہ جب سالک  (6)عَالَمِ لاہوت  (7)  پر پہنچا، سیرو



________________________________
1 -    بعد میں   آنے والے تمام اولیائے کرام نے۔
2 -    محتاج، حاجت مند تھے۔
3 -    سیر اِلَی اللّٰہ: یہ صوفیاء کی اصطلاح ہے اس سے مراد اللّٰہ کریم کے اسماء و صفات کے ظِلال یعنی پرتو سے اسماء وصفات کی طرف سیرکرنا یعنی جستجو کرکے قربِ الٰہی تلاش کرنا ہے۔
4 -    پ۳، البقرۃ:۲۸۵۔
5 -    ’’سیر اِلَی اللّٰہ‘‘ کے بعد کا مقام ’’سیر فی اللّٰہ‘‘ ہے، جسے ’’بقا‘‘ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے یعنی پچھلے درجہ میں   کامیابی حاصل کرنے کے بعد  اللّٰہ تَعَالٰیکی ذات و صفات، تنزیہات و تقدیسات میں   سیر کرنا۔
6 -    راہِ طریقت پر چلنے والا۔
7 -    مقامِ فنا فی اللّٰہ۔