Brailvi Books

دس عقیدے
123 - 193
فاروق کہ جس راہ سے وہ گزر جائیں   شیاطین کے دل دَہل جائیں  ۔(1)وہ فاروق کہ جب وہ اسلام لائے ملائِ اعلیٰ کے فرشتوں   نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   تَہْنِیَت و مبارکبادیوں   کی ڈالیاں   نذرانے میں   پیش کیں  ۔(2)وہ فاروق کہ ان کے روزِ اسلام سے اسلام ہمیشہ عزتیں   اور سربلندیاں   ہی پاتا گیا(3) ان کا اسلام فتح تھا ان کی ہجرت نصرت، اور ان کی خلافت رحمت (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)۔
	اور جب ثابت ہوگیا کہ قربِ الٰہی (معرفت و کثرت ثواب میں  ) شیخین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو مزیت و تفوّق (زیادت و فوقیت) ہے تو ولایت (خاصّہ جو کہ ایک قُربِ خاص ہے کہ مولیٰ عَزَّوَجَلَّ اپنے برگزیدہ بندوں  (4) کو محض اپنے فضل و کرم سے عطا فرماتا ہے یہ) بھی انہیں   کی اعلیٰ ہوئی (اور ولایت شیخین، جملہ اکابر اولیاء کی ولایت



________________________________
1 -    اس میں   ان احادیث کی طرف اشارہ ہے: رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا: ((اِنَّ الشَّیْطَانَ لَمْ یَلْقَ عُمَرَ مُنْذُ اَسْلَمَ اِلاَّ خَرَّ لِوَجْہِہٖ)) یعنی بے شک شیطان حضرت عمر کے اسلام لانے کے بعد جب بھی آمنے سامنے ہوتا ہے (انہیں   دیکھ کر) اپنے منہ کے بل گر جاتا ہے۔(ابن عساکر ، ۴۴ / ۸۶)ایک جگہ فرمایا: ((اِنِّیْ لَاَنْظُرُ اِلَی شَیَاطِیْنِ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ قَدْ فَرُّوْا مِنْ عُمَرَ)) یعنی بے شک میں   جنوں   اور ا نسانوں   کے شیطانوں   کو دیکھتا ہوں   کہ وہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بھاگتے ہیں  ۔(ترمذی ، کتاب المناقب،باب فی مناقب ابی حفص۔۔۔الخ، ۵/۳۸۷، حدیث: ۳۷۱۱)
2 -    ابن ماجہ ، کتاب السنۃ ، فضل عمر ، ۱/۷۶،حدیث : ۱۰۳ ،  مستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، اول من یعانقہ الحق۔۔۔الخ، ۴/۳۶، حدیث:۴۵۴۷، مسند الفردوس ، باب النون، ۲/۳۷۰، حدیث:۷۰۶۲ ۔
3 -    المعجم الکبیر،خطبۃ ابن مسعود ومن کلامہ ، ۹/۱۶۲، حدیث: ۸۸۰۶ ماخوذا۔
4 -    نیک بندوں  ۔