مگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے حمد کہ اس نے کسی کی تَلْبِیس و تَدْلِیس(1) اور حق و باطل میں آمیزِش و آویزِش(2) کو جگہ نہ چھوڑی، آیۃ کریمہ نے ایسے وصفِ خاص سے ’’اتقی‘‘ کی تعیین فرمادی جو حضرت صدیق اکبر کے سوا کسی پر صادق آہی نہیں سکتا، فرماتا ہے: وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤى (3)’’اس پر کسی کا ایسا احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔‘‘ اور دنیا جانتی مانتی ہے کہ وہ صرف صدیقِ اکبر ہی ہیں جن کی طرف سے ہمیشہ بندگی و غلامی و خدمت و نیاز مندی (4) اور مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی طرف سے براہِ بندہ نوازی قبول و پذیرائی کا برتاؤ رہا (5)یہاں تک کہ خودارشاد فرمایاکہ ’’بے شک تمام آدمیوں میں اپنی جان و مال سے کسی نے ایسا سلوک نہیں کیا جیسا ابوبکر نے کیا۔‘‘(6)
جب کہ مولیٰ علی نے حضور مولائے کل، سیّد الرسل(7) صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے کِنارِ اقدس (8) میں پرورش پائی، حضور کی گود میں ہوش سنبھالا، اور جو کچھ پایا بظاہر حالات یہیں سے پایا، تو آیۃ کریمہ: وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤى (اس پر کسی کا ایسا احسان
________________________________
1 - مکروفریب ،دھوکہ بازی۔
2 - میل ملاوٹ، لڑائی جھگڑے۔
3 - پ۳۰، اللیل:۱۹۔
4 - فرماں برداری۔
5 - مہربانی کے طور پر رضامندی ومنظوری کا سلوک رہا۔
6 - ترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی بکر الصدیق۔۔۔الخ،۵/۳۷۴،حدیث:۳۶۸۰۔
7 - سب کے آقا، رسولوں کے سردار۔
8 - مقدس آغوش۔