Brailvi Books

دس عقیدے
12 - 193
 کا وجود محض وَہمِ انسانی کی ایک اِختراع واِیجاد ہے)۔ (1)
	 خالق ہے (ہر شے کا، ذوات ہوں   خواہ اَفعال سب اسی کے پیدا کئے ہوئے ہیں  ) (2) نہ علّت سے ، (اس کے افعال نہ علّت و سبب کے  محتاج ، نہ اس کے فعل کے لیے کوئی غرض ، کہ غرض اس فائدہ کو کہتے ہیں   جو فاعل کی طرف رجوع کرے، اور نہ اس کے افعال کے لیے غایت، کہ غایت کا حاصل بھی وہی غرض ہے۔)
	فَعَّال ہے(3)  (ہمیشہ جو چاہے کرلینے والا)نہ جَوَارِح (وآلات)سے، (جب کہ انسان اپنے ہر کام میں   اپنے جوارح یعنی اعضائے بدن کا محتاج ہے،مثلاً علم کے لیے دل و دماغ کا، دیکھنے اور سننے کے لیے آنکھ کان کا، لیکن خداوند قدوس کہ ہر پست سے پست آواز کو سنتا اور ہر باریک سے باریک کو کہ خورد بین(4) سے محسوس نہ ہو دیکھتا ہے، مگر کان آنکھ سے اس کا سننا دیکھنا اور زبان سے کلام کرنا نہیں   کہ یہ سب اجسام ہیں   اور جسم و جسمانیت سے وہ پاک۔)
	قریب ہے(اپنے کمالِ قدرت و علم ورحمت سے)نہ (کہ) مسافت سے،



________________________________
1 -    اپنے پاس سے کوئی نئی بات پیدا کرنا ہے، یعنی یہ ایسی بات ہے جسے انسانی وہم نے گھڑا ہے۔
2 -    جو کچھ بھی بندے سے صادرہوتا ہے سب کا خالق اللّٰہ ہے۔
3 - ۔۔۔{ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ} (پ۳۰ ، البروج: ۱۶) جیسا چاہے کرے کسی کو اِس پر قَابو نہیں     اور نہ 
کوئی اِس کے اِرادے سے اِسے روکنے والا۔               (بہارِ شریعت،۱/۲۲،بتغیر)
4 -    آنکھ سے نظر نہ آنے والی چیزوں     کو بڑا کر کے دِکھانے والا آلہ۔