نہیں ہے جس کا ہم نے عوض نہ کردیا ہو سوا ابوبکر کے ، کہ ان کا ہمارے ساتھ وہ حسن سلوک ہے جس کا بدلہ اللّٰہ تعالٰی ا نھیں روز قیامت دے گا ۔‘‘(1) وہ صدیق جس کی افضلیت ِ مُطْلَقَہ پر قرآنِ کریم کی شہادت ناطقہ ہے کہ فرمایا: اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ(2) ’’تم میں سب سے زیادہ عزت والا اللّٰہ کے حضور وہ ہے جو تم سب میں اَتقی ہے۔‘‘(3)
اور دوسری آیۃ کریمہ میں صاف فرمادیا : وَ سَیُجَنَّبُهَاالْاَتْقَى(4) ’’قریب ہے کہ جہنم سے بچایا جائے گا وہ اتقی۔‘‘ بشہادتِ آیت اُولیٰ ان آیات کریمہ سے وہی مراد ہے جو افضل و اکرم امتِ مرحومہ ہے،(5)اور وہ نہیں مگر اہل سنت کے نزدیک صدیق اکبر، اور تَفْضِیْلِیَہ(6) و رَوَافض(7)کے نزدیک یہاں امیر المومنین مولیٰ علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔
________________________________
1 - ترمذی،کتاب المناقب،باب مناقب ابی بکرالصدیق۔۔۔الخ،۵/۳۷۴،حدیث:۳۶۸۱۔
2 - پ۲۶،الحجرات: ۱۳۔
3 - بہت پرہیزگار ہے۔
4 - پ۳۰، اللیل: ۱۷۔
5 - پہلی آیت یعنی: اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْکی گواہی سے ان آیات کریمہ یعنی : وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَى اور وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤى سے وہی مراد ہے جو مسلمانوں میں سب سے زیادہ فضلیت وبزرگی والاہے۔
6 - (جو) تمام صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو خیر سے یاد کرتا ہو خلفائے اربعہ رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی امامت بر حق جانتا ہو صرف امیر المؤمنین مولیٰ علی (کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم) کو حضرات شیخین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے افضل مانتا ہو۔(فتاویٰ رضویہ،۱۱/۳۴۶)
7 - جو حضرت ابوبکر صدیق وحضرت عمر وحضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خلافت کے منکر تھے اور صرف حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی امامت وخلافت کے قائل تھے ۔