افضل و اکرم و اکمل و اعظم کردیا۔ وہ صدیق جس کی نسبت حدیث میں آیا کہ ’’ابوبکر کو کثرتِ صوم و صلوۃ کی وجہ سے تم پر فضیلت نہ ہوئی بلکہ اس سِرّ(1)کے سبب جو اس کے دل میں راسخ و مُتَمَکِّن ہے۔‘‘(2)
وہ صدیق جس کی نسبت ارشا دہوا :’’اگر ابوبکر کا ایمان میری تمام اُمت کے ایمان کے ساتھ وزن کیا جائے تو ابوبکر کا ایمان غالب آئے ۔‘‘(3) وہ صدیق کہ خود اُن کے مولائے اکرم و آقائے اعظم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے فرمایا :’’کسی کا ہمارے ساتھ کوئی ایسا سلوک
________________________________
1 - یعنی راز۔
2 - احیاء علوم الدین،کتاب قواعد العقائد،الفصل الثانی فی وجہ التدریج۔۔۔الخ،۱/۱۳۸، کشف الخفاء ومزیل الالباس،حرف المیم،۲/۱۷۰،حدیث: ۲۲۲۶۔
اس ’’سرّ ‘‘ یعنی راز سے کیا مراد ہے اسے علامہ اسماعیل حقی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ ’’تفسیر حقی ‘‘ میں بیان فرماتے ہیں جسے ہم اپنے انداز میں بیان کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں : ’’اس راز و مخفی بھید سے مراد رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جدائی کے دن کی خبر تھی (یعنی صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معلوم تھا کہ اس دن رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصال فرما جائیں گے)، اور اس راز کی برکت تھی کہ سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کے وقت ثابت قدم رہے جبکہ دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا حال تغیر پذیر ہوگیا کہ بعض مدہوش ہوگئے اور بعض متفکر کہ اب کیا بنے گا، لیکن ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جنہوں نے منبر پر کھڑے ہوکر پڑھا:
وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌۚ-قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ-’’یعنی اور محمد تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہوچکے۔‘‘ اس سے ثابت ہوا کہ آپ ایمان میں قوی تر، ثابت قدمی میں اَکمل اور مشاہدہ میں بلند مقام والے تھے۔(تفسیر روح البیان، پ۲۳، الصفت، تحت الاٰیۃ:۱۲۲، ۷/۴۸۱)
3 - المقاصد الحسنۃ،حرف اللام،ص۳۵۷،حدیث:۹۰۸، شعب الایمان،باب القول فی زیادۃ الایمان۔۔۔الخ،۱/۶۹، حدیث:۳۶ بالفاظ مختلفۃ۔۔