ظلمِ عَدوِّ مُکَابِر وغیرہ (1)نماز پڑھنے میں مَعَاذَ اللّٰہ ہلاکِ جان کا یقین ہو تو اس وقت ترکِ نماز کی اجازت ہو گی،(2) یہی تعظیم و محبت و جاں نثاری و پروانہ واریِ شمع رسالت عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّحِیَّۃ ہے جس نے صدیق اکبر کو بعد انبیاء و مرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ تمام جہان پر تفوُّق بخشا(3)اور ان کے بعد تمام عالم، تمام خلق ، تمام اولیاء تمام عرفاء سے
________________________________
= ابوبکرصدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکبھی رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے چلتے کبھی آگے ، کبھی دائیں کبھی بائیں ، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پوچھنے پر بتایا کہ اس لیے چل رہا ہوں کہیں کوئی اچانک آپ پر حملہ آور نہ ہوجائے ، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس رات چلتے رہے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک پاؤں تھک گئے، یہ دیکھ کر امیر المومنین ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کو اپنے کندھوں پر اٹھالیا، اور دوڑتے رہے یہاں تک کہ غار ثور پر پہنچ گئے، وہاں اتار کر عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! آپ سے پہلے میں غار میں داخل ہوں گا تاکہ اگر کوئی نقصان دہ چیز ہو تو وہ مجھے تکلیف دے آپ کو نہ دے، غار میں گھسے تو کئی سوراخ دکھائی دیئے جس میں سانپ تھے ، آپ نے اپنے کپڑے پھاڑ کر ٹٹول ٹٹول کر سوراخ بند کئے، ایک سوراخ باقی رہ گیا تو اس پر اپنا قدم رکھ دیا ، جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غار میں داخل ہوئے تو آپ صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی گود میں سر رکھ کر آرام فرمانے لگے ایک سانپ مشتاقِ زیارت تھا اس نے صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پیر میں ڈنگ مارنے شروع کیے جب زہر نے اثر کیا تو صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آنکھوں سے آنسو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرۂ مبارکہ پر گرے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھ کھل گئی ، پوچھا: کیا ہوا ؟ عرض کیا : حضور سانپ نے ڈس لیا ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فوراً لعابِ دہن لگایا ، زہر کا اثر جاتا رہا ، ہر سال وہ زہر لوٹتا بالآخر بارہ۱۲ سال بعد اسی سے شہادت ہوئی۔ (ملخصًا من التفاسیر)
1 - اگر بہت بڑے دشمن وغیرہ کے ظلم کی وجہ سے۔
2 - در مختار ورد المحتار، کتاب الاکراہ، ۹/۲۲۶۔۲۲۸۔
3 - فوقیت وفضیلت بخشی۔