کفایت (اور یہ جواب اس کی صحیح رَہنمائی و ہدایت کے لیے کافی) اور مُتَعَصِّب(1) (کہ آتشِ غلو میں سُلگتا اور ضِد و نَفْسَانِیَّت کی راہ چلتا ہے) (2) کو اس میں غَیْظِ بے نہایت(3) (قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ (4)انھیں آتشِ غضب(5) میں جلنا مبارک)۔
(ہم مسلمانانِ اہلسنّت کے نزدیک ، حضرت مولیٰ کی ماننا) یہی محبت ِعلی مرتضیٰ ہے اور اس کا بھی (یہی تقاضا) یہی مُقْتَضٰی ہے کہ محبوب کی اطاعت کیجئے اور اس کے غضب اور اَسّی(۸۰) کوڑوں کے اِستحقاق سے بچئے (وَالْعِیَاذُ بِاللّٰہ)۔ (6)
اللّٰہ! اللّٰہ! وہ امامُ الصدیقین، اکمل اولیاء العارفین سیّدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ(7) جس نے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کی تعظیم و محبت کو حفظ ِجان(8) پر مقدّم رکھا حالانکہ جان کا رکھنا سب سے زیادہ اہم فرض ہے،(9) اگر بوجہ
________________________________
1 - تَعَصُّب برتنے والا ،ہٹ دھرم۔
2 - حد سے زیادہ مبالغے کی آگ میں جلتا اور ہٹ دھرمی وخواہشِ نفس کے راستے پر چلتا ہے۔
3 - اتنا شدید غصہ جس کی کوئی انتہا ہی نہیں ۔
4 - تم فرمادو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن میں ۔ (پ۴، اٰل عمرٰن:۱۱۹)
5 - غصہ کی آگ۔
6 - خدا پناہ میں رکھے۔
7 - یعنی سچوں کے ہادی ورہنما اور مرتبہ ٔ ولایت پر فائض اشخاص صوفیوں ، ولیوں ، خدا شناسوں میں سب سے کامل ترین ہمارے سردار صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔
8 - جان کی حفاظت۔
9 - اس میں ہجرت کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس وقت کفارِ مکہ نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تنگ کیا تو نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ کی طرف چلے ، اس ہجرت میں حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنے ساتھ لیا، حضرت=