رہے(1) اور اسی بیگانگی میں عمریں گزار دیں )، یا (انھیں آگاہی اور ان اَسرار پر اطلاع) تھی تو وہ ان (واضِحُ الدَّلالۃ الفاظ) (2) کا مطلب نہ سمجھے (اور غیرت و شرم کے باعث اور کسی سے پوچھ نہ سکے) یا سمجھے (حقیقتِ حال سے آگاہ ہوئے) اور اس میں تفضیلِ شیخین کا خلاف پایا (مگر خاموش رہے اور جُمہُور صحابۂ کرام(3) کے برخلاف عقیدہ رکھا زبان پر اس کا خلاف نہ آنے دیا اور حالانکہ یہ ان کی پاک جنابوں میں گستاخی اور ان پر تَقِیَّہ ملعونہ کی تہمت تراشی ہے)، (4) تو(اب ہم )کیونکر خلاف سمجھ لیں (کیسے کہہ دیں کہ ان کے دل میں خلاف تھا زبان سے اقرار )اور تَصْرِیْحَاتِ بیّنہ و قاطعُ الدلالۃ (روشن صراحتوں قطعی دلالتوں ) و غیر مُحْتَمَلَۃُ الخِلاف کو (جن میں کسی خلاف کا احتمال نہیں ، کوئی ہیر پھیر نہیں ) کیسے پسِ پشت ڈال دیں ۔(5)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہ حق تبارک و تعالیٰ نے فقیر حقیر(6) کو یہ ایسا جوابِ شافی(7) تعلیم فرمایا کہ مُنْصِف (انصاف پسندذِی ہوش) کے لیے اس میں
________________________________
1 - گھر کے اندرونی معاملات ورازوں سے بے خبر رہے۔
2 - رہنمائی کرنے والے نمایاں الفاظ۔
3 - صحابۂ کرام کی اکثریت۔
4 - یعنی ان صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانپر بلا وجہ، خواہ مخواہ یہ مردود عیب و الزام لگانا ہے کہ ان کے دل میں جو رَاز تھے انھوں نے وہ کسی کے خوف سے چُھپائے رکھے، کسی پر ظاہر نہ ہونے دیئے ۔
5 - کیسے نظر انداز کردیں ۔
6 - بندۂ ناچیز۔
7 - پُر اطمینان اورتسلی بخش جواب۔