صرف فلاں حیثیت سے افضل ہیں اور دوسری حیثیت سے دوسروں کو اَفضیلت (حاصل ہے)، لہٰذا انھوں نے عقیدہ کرلیا کہ گو(1)فضائلِ خاصہ و خصائصِ فاضلہ (مخصوص فضیلتیں اور فضیلت میں خصوصیتیں )حضرت مَولیٰ (علی مشکل کُشا(2)کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ) اور ان کے غیر کو بھی ایسے حاصل (اور بعَطائے اِلٰہی(3)وہ ان خصوصیات کے تنہا حامل) (4) جو حضراتِ شیخین (کریْمَیْن جَلِیْلَیْن) (5)نے نہ پائے جیسے کہ اس کا عَکْس(6)بھی صادق ہے (کہ امیرین وزیرین کو وہ خصائصِ غالیہ اور فضائلِ عالیہ(7) بارگاہِ الٰہی سے مرحمت ہوئے کہ ان کے غیر نے اس سے کوئی حصہ نہ پایا) مگر فضلِ مطلق کُلّی (کسی جہت و حیثیت کا لحاظ کیے بغیر فضیلت مُطلَقہ کُلّیہ) جو کثرتِ ثواب و زیادتِ قُربِ ربّ الارباب سے عبارَت ہے وہ اِنہیں کو عطا ہوا (اوروں کے نصیب میں نہ آیا) (یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے یہاں زیادہ عزت و منزلت جسے کثرتِ ثواب سے بھی تعبیر کرتے ہیں وہ صرف حضراتِ شیخین نے پائی، اس سے مراد اجرو انعام کی کثرت و زیادت نہیں کہ بارہا مفضول(8)کے لیے ہوتی ہے۔
________________________________
1 - باوجود اس کے۔
2 - مشکل دور کرنے والے حضرت علی ۔
3 - اللّٰہ کی عطا سے۔
4 - وہ تنہا ان خصوصیات کو رکھنے والے۔
5 - کرم کرنے والے بزرگ وبرتر۔
6 - اُلٹ۔
7 - حد سے زیادہ خصوصیات اور بلندو بالا کمالات ۔
8 - جس پرفضیلت دی گئی ہو۔