کی حد لازم ہے، پھر فرمایا: بے شک بہتر اس امت کے بعد ان نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ابوبکر ہیں پھر عمر، پھر خدا خوب جانتا ہے بہتر کو ان کے بعد، اور مجلس میں امام حَسن (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ) بھی جلوہ فرما تھے انھوں نے ارشاد کیا: خدا کی قسم! اگر تیسرے کا نام لیتے تو عثمان کا نام لیتے۔‘‘ بالجملہ(1)احادیثِ مرفوعہ(2) و اَقوالِ حضرت مرتضوی واہلِ بیتِ نبوت(3) اس بارے میں : لَا تَعْدَاد وَلَا تَحْصٰی (بے شمار ولا انتہا)ہیں کہ بعض کی تفسیر فقیر نے اپنے رسالہ ’’ تفضیل‘‘(عہ) میں کی۔
اب اَہل سنّت (کے علمائے ذَوِی الاحترام) (4) نے ان اَحادیث و آثار(5) میں جو نگاہِ غور کو کام فرمایا(6)تو تفضیل شیخین کی صَدہا تَصْرِیحیں (سیکڑوں صراحتیں ) علی الْاِطلاق پائیں کہیں جِہَت و حِیْثِیَّت(7)کی قید نہ دیکھی کہ یہ
________________________________
1 - ساری بات کا حاصل یہ ہے کہ ۔
2 - یعنی وہ حدیث جس کی سند نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک پہنچتی ہو ۔ (نزہۃ النظر، ص۱۰۴)
3 - سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اہل بیت اور حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے فرمان۔
عہ… اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز نے مسئلہ تفضیل شیخین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا پر نوے جزکے قریب
ایک کتاب مسمّٰی بہ ’’منتہی التفصیل لمبحث التفضیل‘‘ لکھی پھر ’’مطلع القمرین فی ابانۃ سبقۃ العمرین‘‘ میں اس کی تلخیص کی، غالباً اس ارشاد گرامی میں اشارہ اسی کی طرف ہے، واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ محمد خلیل القادری عفی عنہ)
4 - محترم ، صاحبِ عزت علماء۔
5 - سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اقوال وافعال۔
6 - توجہ کی نظر ڈالی۔
7 - کسی سبب و خصوصیت کی شرط۔