اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَاٰلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاھِرِیْنَ وَصَحْبِہِ
الْمَکَرَّمِیْنَ الْمُعَظَّمِیْنَ وَاَوْلِیَاءِ اُمَّتِہٖ وَعُلَمَاءِ مِلَّتِہٖ وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ اَجْمَعِیْنَ ط
عقیدۂ اُولٰی(۱) :
ذات وصفاتِ باری تعالٰی (1)
حضرت حق سُبْحَانَہٗ وَتَبَارَکَ وَتَعَالٰی شَانُـہٗواحد ہے (اپنی رَبوبیت واُلوہیت میں ،(2) کوئی اس کا شریک نہیں ،(3)وہ یکتا ہے اپنے افعال میں ، مصنوعات(4) کو تنہا اُسی نے بنایا، وہ اکیلا ہے اپنی ذات میں کوئی اس کا قَسِیم نہیں ، یَگانہ ہے(5)اپنی صفات میں کوئی اس کا شَبِیہ نہیں ، ذات و صفات میں یکتا و واحد مگر )نہ عدد سے، (کہ شمار و گنتی میں آسکے، اور کوئی اس کا ہم ثانی و جنس کہلاسکے، تو اللّٰہ کے ساتھ اس کی ذات و صفات میں شریک
________________________________
1 - پہلا عقیدہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں ۔
2 - یعنی اکیلا ہے رب اور معبود ِ برحق ہونے میں ۔
3 - کوئی بھی اِس کا شریک نہیں نہ اِس کی ذات میں ، نہ صفات میں ، نہ افعال میں ، نہ احکام میں اور
نہ اسماء میں ۔(بہارِ شریعت،۱/۲)
4 - یعنی تمام پیدا کردہ اشیاء۔
5 - اکیلا ہے۔