Brailvi Books

دس عقیدے
11 - 193
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ وَاٰلِہِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاھِرِیْنَ وَصَحْبِہِ
الْمَکَرَّمِیْنَ الْمُعَظَّمِیْنَ وَاَوْلِیَاءِ اُمَّتِہٖ وَعُلَمَاءِ مِلَّتِہٖ وَعَلَیْنَا مَعَھُمْ اَجْمَعِیْنَ ط
عقیدۂ اُولٰی(۱)  :
ذات وصفاتِ باری تعالٰی (1)
	حضرت حق سُبْحَانَہٗ وَتَبَارَکَ وَتَعَالٰی شَانُـہٗواحد ہے (اپنی رَبوبیت واُلوہیت میں  ،(2)  کوئی اس کا شریک نہیں  ،(3)وہ یکتا ہے اپنے افعال میں  ، مصنوعات(4) کو تنہا اُسی نے بنایا، وہ اکیلا ہے اپنی ذات میں   کوئی اس کا قَسِیم نہیں  ، یَگانہ ہے(5)اپنی صفات میں   کوئی اس کا شَبِیہ نہیں  ، ذات و صفات میں   یکتا و واحد مگر )نہ عدد سے، (کہ شمار و گنتی میں   آسکے، اور کوئی اس کا ہم ثانی و جنس کہلاسکے، تو اللّٰہ کے ساتھ اس کی ذات و صفات میں   شریک



________________________________
1 -    پہلا عقیدہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں    ۔
2 -    یعنی اکیلا ہے رب اور معبود ِ برحق ہونے میں    ۔
3 -    کوئی بھی اِس کا شریک نہیں     نہ اِس کی ذات میں    ، نہ صفات میں    ، نہ افعال میں    ، نہ احکام میں     اور
         نہ اسماء میں    ۔(بہارِ شریعت،۱/۲)
4 -    یعنی تمام پیدا کردہ اشیاء۔
5 -    اکیلا ہے۔