ابوالقاسم طلحی(1) ’’کتاب السنۃ‘‘ میں جناب علقمہ سے راوی: بَلَغَ عَلِیًّا اَنَّ اَقْوَامًا یُّفَضِّلُوْنَہُ عَلٰی اَبِیْ بَکْرٍ وَّ عُمَرَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَ اَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: اَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّہُ بَلَغَنِیْ اَنَّ اَقْوَامًا یُّفَضِّلُوْنِیْ عَلی اَبِیْ بَکْرٍ وَّ عُمَرَ، وَ لَوْ کُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِیْہِ لَعَاقَبْتُ فِیْہِ فَمَنْ سَمِعْتُہُ بَعْدَ ھَذَا الْیَوْمِ یَقُوْلُ ھٰذَا فَھُوَ مُفْتَرٍ، عَلَیْہِ حَدُّ الْمُفْتَرِیْ، ثُمَّ قَالَ: اِنَّ خَیْرَ ھَذِہِ الْاُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اَبُوْ بَکْرٍ ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِالْخَیْرِ بَعْدَہٗ، قَالَ: وَ فِی الْمَجْلِسِ اَلْحَسَنُ بْنُ عَلِیّ فَقَالَ: وَ اللّٰہِ لَوْ سَمَّی الثَّالِثَ لَسَمَّی عُثْمٰنَ۔(2)
’’یعنی جناب مَولیٰ علی کو خبر پہنچی کہ کچھ لوگ انھیں حضرات شیخین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا پر تفضیل دیتے (اور حضرت مولیٰ کو ان سے اَفضل بتاتے) ہیں ، پس منبر پر تشریف لے گئے اور اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی، پھر فرمایا: اے لوگو! مجھے خبر پہنچی کہ کچھ لوگ مجھے ابوبکر و عمر سے اَفضل بتاتے ہیں اور اگر میں نے پہلے سے سُنا ہوتا تو اس میں سزا دیتا یعنی پہلی بار تفہیم (و تنبیہ) پر قناعت فرماتا ہوں پس اس دن کے بعد جسے ایسا کہتے سُنوں گا تو وہ مُفْتَرِی (بہتان باندھنے والا) ہے اس پر مُفْتَرِی
________________________________
1 - حضرت سیدنا امام ابوالقاسم طلحی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ: ان کا پورا نام ابو القاسم اسماعیل بن محمد بن فضل بن علی قرشی طلحی تمیمی اصبہانی ہے، قِوَامُ السُّنَّۃ کے نام سے پکارے جاتے ہیں ، تفسیر و حدیث ولغت کے امام ہیں ، ان کی مشہور کتابیں ’’کتاب السنۃ‘‘ اور ’’الحجۃ فی بیان المحجۃ‘‘ ہے، 459 ہجری میں پیدا ہوئے اور 535 ہجری میں ان کا وصال ہوا۔(الاعلام،۱/۳۲۳ ،ہدیۃ العارفین ، ۱/۲۱۱)
2 - الحجۃ فی بیان المحجۃباب فی فضائل الصحابۃ،فصل فی ذکر ما روی۔۔۔الخ، ۲/۳۴۵، الرقم:۳۲۷،فتاویٰ رضویہ ، ۲۹/۳۶۷۔