(اَزاں جُملَہ(1) وہ ارشاد گرامی کہ) امام بخاری رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ حضرت محمد بن حنفیہ(2) صاحبزادہ ٔجناب امیر المومنین علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے راوی: قَالَ: قُلْتُ ِلاَبِیْ: اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ بَعْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ؟ قَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: عُمَرُ۔(3) ’’یعنی میں نے اپنے والد ماجد امیر المومنین مولیٰ علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ سے عرض کیا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے بعد سب آدمیوں سے بہتر کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا:ابوبکر۔ میں نے عرض کیا: پھر کون؟ فرمایا: عمر۔
ابوعمر بن عبداللّٰہ حکم بن حجل سے، اور دار قطنی اپنی ’’سنن‘‘ میں راوی، جناب امیر المومنین علی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗ تَعَالٰی فرماتے ہیں : لَا اَجِدُ اَحَدًا فَضَّلَنِیْ عَلٰی اَبِیْ بَکْرٍ وَ عُمَرَ اِلاَّ جَلَدْتُہٗ حَدَّ الْمُفْتَرِیْ۔(4)
’’جسے میں پاؤں گا کہ شیخین (حضرت ابوبکر و عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا) سے مجھے افضل بتاتا (اور مجھے ان میں سے کسی پر فضیلت دیتا )ہے اسے مُفتری (افتراء و بہتان لگانے والے) کی حد ماروں گا کہ اَسّی(۸۰) کوڑے ہیں ۔‘‘
________________________________
1 - ان میں سے۔
2 - حضرت سیدنا محمد بن حنفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ : آپ حضرت سیدناعلی بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بیٹے ہیں ، آپ کی والدہ کا نام خولہ بنت جعفر ابن قیس ہے، قبیلہ بنی حنیفہ سے تھیں جو خلافت ِصدیقی میں گرفتار ہوکر جنگ یمامہ میں آئیں اور حضرت علی کو دی گئیں ، آپ تابعی، مشہور عالم، بڑے بہادر تھے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۸/۳۵۰)
3 - بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،باب قول النبی لوکنت متخذا۔۔۔الخ،۲/۵۲۲، حدیث:۳۶۷۱۔
4 - السنۃ، باب ما روی عن علی۔۔۔الخ،ص۲۸۱،حدیث:۱۲۵۴۔