Brailvi Books

دس عقیدے
107 - 193
 اگلوں   پچھلوں   سے، اور بہتر ہیں   سب آسمان والوں   سے، اور بہتر ہیں   سب زمین والوں   سے، سوا انبیاء و مرسلین عَلَیْہِمُ الصَّلَوٰۃُ وَالسَّلَام کے۔‘‘ خود حضرت مولیٰ علی کَرَّمَ  اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ نے بار بار اپنی کرسیٔ مَمْلُکَت و سَطْوَتْ (و دَبدبۂ) خلافت میں   افضلیت مُطْلَقَہ شیخین کی تصریح فرمائی(1) (اور صاف صاف واشگاف(2) الفاظ میں   بیان فرمایا کہ یہ دونوں   حضرات(3) علی الاطلاق بلا قَیْد ِجِہَت و حَیْثِیَّت(4) تمام صحابہ کرام سے افضل ہیں  )  اور یہ ارشاد ان سے بتواتر ثابت ہوا کہ اَسّی سے زیادہ صحابہ و تابعین نے اسے روایت کیا،(5) اور فی الواقع(6)  اس مسئلہ  (افضلیت ِ شیخِ کریمین) کو جیسا حق ماٰب مرتَضَوِی(7) نے صاف صاف واشگاف بہ کَرَّات و مَرَّات (بار بار موقع بہ موقع اپنی)  جَلوات و خَلوات (عمومی مَحفلوں  ، خصوصی نِشَسْتوں  ) و مُشَاہد ِعامّہ و مَسَاجِدِ جامِعَہ (عامۃ الناس کی مجلسوں   اور جامع مسجدوں  ) میں   ارشاد فرمایا دوسروں   سے واقع نہیں   ہوا۔



________________________________
1 -    خود حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بارہا اپنی سلطنت اورجاہ وجلال اور شان وشوکت والیخلافت کے زمانے میں   قطعی طور پر شیخین یعنی صدیق اکبر اور عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے افضل ہونے کی تصریح فرمائی۔
2 -    واضح۔
3 -    یعنی حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ۔
4 -    مطلقاً بغیر کسی سبب و خصوصیت کی شرط کے۔
5 -    الصواعق المحرقۃ ، ص ۶۰۔
6 -    در حقیقت۔
7 -    یعنی حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔