((یَا عَلِیُّ! ہَذَانِ سَیِّدَا کُہُوْلِ اَہْلِ الْجَنَّۃِ وَ شَبَابِہَا بَعْدَ النَّبِـیِّـیْنَ وَ الْمُرْسَلِیْنَ))(رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ، وَابْنُ مَاجَۃَ وَعَبْدُ اﷲِ بْنُ الاِمَامِ اَحْمَدَ)۔ (1)
’’میں خدمت اقدس حضور افضل الانبیاء صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم میں حاضر تھا کہ ابوبکر و عمر سامنے آئے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ علی! یہ دونوں سردار ہیں اہلِ جنت کے سب بوڑھوں اور جوانوں کے،(2)بعد انبیاء و مرسلین کے۔ ‘‘
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہٗ سید المرسلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے راوی، حضور کا ارشاد ہے: ((اَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرُ خَیْرُ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ وَ خَیْرُ اَھْلِ السَّمٰوٰتِ وَخَیْرُ اَھْلِ الْاَرْضِیْنَ اِلا النَّبِـیِّـیْنَ وَ الْمُرْسَلِیْنَ)) (رَوَاہُ الْحَاکِمُ فِی ’’الْکُنٰی‘‘ وَاِبْنُ عَدِیٍّ وَخَطِیْبُ)۔ (3) ’’ابو بکر و عمر بہتر ہیں سب
________________________________
1 - ترمذی اور ابن ماجہ اور عبداللّٰہ بن امام احمد نے اس کو روایت کیا۔(ترمذی،کتاب المناقب،باب فی مناقب ابی بکروعمر،۵/۳۷۵-۳۷۶،حدیث:۳۶۸۴-۳۶۸۶وابن ماجہ،کتاب السنۃ،باب فی فضائل اصحاب۔۔۔الخ،۱/۷۲،حدیث:۹۵،مسند احمد،ومن مسند علی بن ابی طالب،۱/۱۷۴،حدیث:۶۰۲)
2 - مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ ’’کہولت‘‘ کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’جوانی اوربڑھاپے کے درمیانی زمانہ کو ’’کہولت‘‘ کہا جاتا ہے یعنی تیس سال کے بعد سے پچاس سال تک عمر، مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جولوگ اس عمر میں فوت ہوئے اور وہ تھے جنتی ان سب کے سردار یہ دونوں ہیں ورنہ جنت میں سارے جنتی جوان تیس سالہ ہوں گے کوئی بوڑھا یا ادھیڑ عمر نہ ہوگا ، عورتیں اٹھارہ سالہ، ہمیشہ یہ ہی عمر رہے گی کہ وہاں دن رات مہینے سال نہیں گزرتے۔‘‘(مراٰۃ المناجیح، ۸/۳۸۵(
3 - حاکم نے اسے کُنی میں روایت کیا اور ابن عدی وخطیب نے۔(کنزالعمال،کتاب الفضائل،فضائل ابی بکروعمر،الجزئ:۱۱،۶/۲۵۶،حدیث:۳۲۶۴۲،تاریخ بغداد،۲/۳۳۳،الکامل فی ضعفاء الرجال،۲/۴۴۳)