میں نہ آئیں(1)
وَعَلٰی تَفَنُّنِ وَاصِفَیْہِ بِحُسْنِہٖ
یُغْنِی الزَّمَانُ وَفِیْہِ مَا لَمْ یُوْصَفٖ
(اور اس کے حُسن کی تعریف کرنے والوں کی عمدہ بیانی کی بنیاد پر زمانہ غنی ہوگیا اور اس میں ایسی خوبیاں ہیں جنہیں بیان نہیں کیا جاسکتا۔)
مگر کثرتِ فضائل و شہرتِ فواضل (کثیر در کثیر فضیلتوں کا موجود اور پاکیزہ و برتر عزتوں مرحمتوں کا مشہور ہونا) چیزے دیگر (اور بات ہے) اور فضیلت و کرامت (سب سے افضل اور بارگاہِ عزت میں سب سے زیادہ قریب ہونا) اَمرے آخر (ایک اور بات ہے اس سے جدا و ممتا ز)، فضل اللّٰہ تَعَالٰی کے ہاتھ ہے جسے چاہے عطا فرمائے: {قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِۚ-یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ-}۔(2)
اُس کی کتابِ کریم اور اُس کا رسولِ عظیم عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰلِہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم علی الاعلان(3) گواہی دے رہے ہیں کہ حضرت امام حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے والد ماجد مولیٰ علی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں : کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَقْبَلَ اَبُوْ بَکْرٍ وَ عُمَرُ فَقَالَ:
________________________________
1 - اگر ہزاروں تقریریں یا تحریریں ان کے کمالات کی تفصیل اور بڑی بخششوں کی وضاحت میں لکھی جائیں تو ہزار میں سے ایک تحریر میں نہ آئیں ۔
2 - ترجمۂ کنزالایمان: تم فرمادو کہ فضل تو اللّٰہ ہی کے ہاتھ ہے جسے چاہے دے۔ (پ۳، اٰل عمرٰن: ۷۳)
3 - واضح طور پر، کھلّم کھلّا۔