حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی مجلسِ شوریٰ کے رکنِ اعظم) (1) ضَجِیْعَیْن(2) (ہم خُوَابہ(3) اور دونوں اپنے آقا و مولیٰ کے پَہْلُو بَہ پَہْلُو آج بھی مصروفِ اِستراحت) (4)رفیقَین(ایک دوسرے کے یارو غمگسار)سیّدنا و مولانا عبداللّٰہ العَتِیْق(5)ابوبکر صدیق وجناب حق ماٰب ابو حفص عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی شانِ وَالا سب کی شانوں سے جُدا ہے اور ان پر سب سے زیادہ عنایت ِخدا اور رسولِ خدا جَلَّ جَلَالُـہٗ وَ
________________________________
1 - مشورہ دینے والے ماہر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی مجلس کے امیر وسردار۔
2 - ایک ہی جگہ آرام فرمانے والے، مراد یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا دونوں نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ آپ کے روضۂ مبارکہ میں آرام فرما رہے ہیں جیسا کہ حدیث میں ابن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے؛ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کی سیدھی جانب ابو بکر اور الٹی جانب عمر فاروق تھے آپ نے ارشاد فرمایا: ((ھَکَذَا نُبْعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)) ہم اسی طرح قیامت کے دن اُٹھائے جائیں گے۔ اور ایک جگہ فرمایا:اسی طرح ہمارا وصال ہوگا، اسی طرح ہماری تدفین ہوگی، اور اسی طرح ہم جنت میں داخل ہوں گے۔(تاریخ ابن عساکر، ۴/ ۱۸۸، کنزالعمال،کتاب الفضائل،فضل الشیخین۔۔۔الخ،الجزئ:۱۳،۷/۹، حدیث:۳۶۱۲۵ ۔۳۶۱۲۶)
3 - ایک ساتھ آرام فرمانے والے۔
4 - اور دونوں سرکار عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کے برابر برابر، ایک ساتھ آرام وسکون کے ساتھ قیامپذیر ہیں ۔
5 - ہمارے سردار ہمارے آقا اللّٰہ کے بندے ’’العتیق‘‘ یہ حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کالقب ہے ،اور یہ لقب اس طرح پڑا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا سے مروی ہے: ایک مرتبہ صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سرکار عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کی خدمت ِ بابرکت میں تشریف لائے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ((اَنْتَ عَتِیْقُ اللّٰہِ مِنَ النَّارِ)) ’’تم آگ سے اللّٰہ کی طرف سے آزاد شدہ ہو۔ ‘‘ تو اسی دن سے آپ کو عتیق کہا جانے لگا۔(ترمذی،کتاب المناقب،باب فی مناقب ابی بکر وعمر،۵/۳۸۲،حدیث:۳۶۹۹(