Brailvi Books

دس عقیدے
102 - 193
 صاحبزادیاں   حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے شرفِ زوجیت سے مشرف ہوئیں   اور اُمَّہَاتُ المؤمنین، مسلمانوں   ایمان والوں   کی مائیں   کہلائیں  ) (1) وَزیرَین (جیسا کہ حدیث شریف میں   وارِد کہ میرے دو وزیر آسمان پر ہیں  : جبرائیل و میکائیل، اور دو وزیر زمین پر ہیں  : ابو بکر و عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)، (2)اَمِیْرَیْن (کہ ہر دو امیر المومنین ہیں  ) مُشِیْرَین (دونوں



________________________________
1 -    حضرت سیدتناعائشہ بنت صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا: آپ اُمُّ الْمُؤْمِنِیْن ہیں   حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیٹی اور رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ، حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نبوت کے دسویں   سال مکہ معظمہ میں   ان سے نکاح کیا، یعنی ہجرت سے تین سال پہلے،  دو ہجری شوال میں   مدینہ منورہ میں   رخصتی ہوئی، نو سال حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ رہیں  ، حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ہی روایت ہے کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام ان کی صورت سبز ریشمی کپڑے میں   رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس لائے، عرض کیا: یہ دنیا و آخرت میں   آپ کی بیوی ہیں   آپ کے سوا کسی کنواری خاتون سے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نکاح نہیں   کیا، بے مثال عالمہ فقیہہ فصیحہ فاضلہ تھیں  ،حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات کے وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔(مراٰۃ المناجیح ، ۸/۶۹،اسدالغابۃ،عائشۃ بنت ابی بکر الصدیق،۷/۲۰۵) حضرت سیدتنا حفصہ بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا: آپ اُمُّ الْمُؤْمنین ہیں   حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صاحبزادی اور رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ محترمہ ہیں  ، حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے خنیس ابن حذافہ سہمی کے نکاح میں   تھیں   ان کے ساتھ ہی ہجرت کی، غزوۂ بدر کے بعد خنیس فوت ہو گئے، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کیا کہ حفصہ سے نکاح کرلو، حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بھی یہی کہا، اس کے بعد حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نکاح کا پیغام دیا چنانچہ تین ہجری میں   حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم کے نکاح میں   آئیں  ۔(مراٰۃ المناجیح، ۸/۲۰،اسدالغابۃ،حفصۃ بنت عمر،۷/۷۴)
2 -    ترمذی،کتاب المناقب،باب فی مناقب ابی بکر۔۔۔الخ،۵/۳۸۲،حدیث:۳۷۰۰۔