مَطْلُوْبُ کُلِّ طَالِبٍ، سیدنا و مولانا علی بن ابی طالبکَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم وَحَشَرَنَا فِیْ زُمْرَتِہٖ فِیْ یَوْمٍ عَقِیْمٍ(1) کہ اس جناب گَردُوں قِباب (جن کے قبہ کی کَلَس(2) آسمان برابر ہے ان)کے مناقب ِجلیلہ (اوصافِ حمیدہ) و محامد ِجمیلہ (خصائل حسنہ) جس کثرت و شہرت کے ساتھ (کثیر و مشہور، زبان زد عام و خواص) ہیں دوسرے کے نہیں ۔
(پھر) حضراتِ شیخین، صَاحِبَیْن صِہْرَین (کہ ان کی
________________________________
1 - دشمنوں پر غالب آنے والے حق تبارک و تعالیٰ کے شیر، انوکھی اور حیرت انگیز باتوں کو ظاہر کرنے والے، ہر طالب کے مقصود ہمارے آقا ومولیٰ، ابو طالب کے بیٹے حضرت علیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ جن کے چہرۂ انور کو حق تبارک و تعالیٰ نے بتوں کے سامنے جھکنے سے محفوظ رکھا ،اوربروزِ قیامت اللّٰہ تعالیٰ ہمارا حشربھی ان کی جماعت میں کرے۔علامہ ابنِ حجر مکی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے ’’کَرَّمَ اللّٰہُُ وَجْہَہُ‘‘ کا حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ خاص ہونے کی وجہ یہ بیان کی کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی جبینِ سعادت یعنی مُبارک پیشانی کو بُتوں کے سامنے سجدہ ریزی سے محفوظ رکھا یعنی اس بات پر اجماع ہے کہ آپ نے کبھی بھی بت کو سجدہ نہیں کیا کیونکہ آپ بچپن ہی میں اسلام لے آئے تھے۔ (فتاوی حدیثیۃ، ص ۸۰)اعلیٰ حضرت مولاناشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے ’’کَرَّمَ اللّٰہُُ تَعَالٰی وَجْہَہُ‘‘ کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’حضرت مولیٰ نے حضور مَولَی الکُل سَیِّدُ الرُّسُل صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کنارِ اقدس میں پرورش پائی، حضو رکی گود میں ہوش سنبھالا، آنکھ کھلتے ہی محمد رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جمالِ جہاں آرا دیکھا، حضور ہی کی باتیں سنیں ، عادتیں سیکھیں ، صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَبَارَکَ وَسَلَّم، تو جب سے اُس جنابِ عرفان مآب کو ہوش آیا قطعاً یقینا ربّ عَزَّوَجَلَّ کو ایک ہی جانا ، ایک ہی مانا، ہرگز ہرگز بتوں کی نجاست سے اس کا دامنِ پاک کبھی آلودہ نہ ہوا،اسی لئے لقب ِکریم ’’کَرَّمَ اللّٰہُُ تَعَالٰی وَجْہَہُ‘‘ ملا۔(فتاویٰ رضویہ، ۲۸/۴۳۶، فتاوی حدیثیہ،ص۸۰)
2 - گنبد کے اوپر کا نوک دار حصہ۔