نصرتِ الٰہی(1) کے بھروسا پر قدم اٹھایا اور بَفیضانِ اَساتذۂ کرام(2) نہایت قلیل مدّت میں (3) اپنی مصروفیات کے باوجود کامیابی سے سرفراز ہوا۔میں اپنے مقصد میں کہاں تک کامیاب ہوا اس کا فیصلہ آپ کریں گے، اور میری کوتَاہ فَہْمی(4) و قُصُورِ علمی(5) آپ کے خیال مبارک میں آئے تو اس سے اس ہیچ مَداں (6) کو مطلع فرمائیں گے،اور اس حقیقت کے اظہار میں یہ فقیر فخر محسوس کرتا ہے کہ اس ’’رسالۂ مبارکہ‘‘ میں حاشیے بَیْنَ السُّطور(7) اور تشریحِ مَطَالب(8) (جو اصل عبارت سے جدا، قَوسَین میں (9) محدود ہے، اور اصل عبارت خط کَشِیْدَہ) جو کچھ پائیں گے وہ اکثر و بیشتر مقامات پر اعلیٰ حضرت قُدِّسَ سِرُّہٗ ہی کے کتب ورسائل اور حضرت استاذی و اُسْتَاذُ الْعلمَاء صَدْرُ الشَّرِیْعَۃ مولانا الشاہ امجد علی قادری برکاتی رَضَوی اعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کی مشہورِ زمانہ کتاب ’’بہارِ شریعت‘‘ سے ماخوذ مُلْتَقَط(10) ہے، امید ہے کہ ناظرین کرام اس فقیر کو اپنی دعائے خیر میں یاد فرماتے رہیں گے کہ سفرِ آخرت درپیش ہے اور یہ فقیر خالی ہاتھ ، خالی دامن، بس ایک اُنہیں کا سہارا ہے اور اِنْ شَاء اللّٰہ تَعَالٰی وہی بگڑی بنائیں گے ورنہ ہم نے تو کمائی سب عیبوں میں گنوائی ہے، والسلام۔
العبدمحمد خلیل خاں قادری البرکاتی المارَہری عُفِیَ عَنْہُ
________________________________
1 - اللّٰہ کی مدد ۔
2 - مہربان استادوں کی برکت سے ۔
3 - بہت مختصر عرصہ میں ۔
4 - کم فہمی۔
5 - کم علمی۔
6 - نا چیز ۔
7 - لائنوں کے درمیان حاشیے۔
8 - مقصود و منشا کی شرح۔
9 - یعنی اس طرح ()کے بریکٹ میں ۔
10 - منتخب کیا ہوا، چنا ہوا۔