بچّے کو دودھ پلانے کی مُدّت
بچے کو(ہجری سن کے حساب سے) دو برس(کی عمر) تک(عورت کا) دودھ پلایا جائے، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں، دودھ پینے والا لڑکا ہو یا لڑکی۔ اور یہ جو بعض عوام میں مشہور ہے کہ لڑکی کو دو برس تک اور لڑکے کو ڈھائی برس تک پلا سکتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ یہ حکم دودھ پلانے کا ہے جبکہ نکاح حرام ہونے کے لیے (ہجری سن کے حساب سے) ڈھائی برس کا زمانہ ہے یعنی دو ۲ برس(کی عمر) کے بعد اگرچِہ دودھ پلانا حرام ہے مگر ڈھائی برس (کی عمر)کے اندر اگر دودھ پلا دے گی، حرمت نکاح(یعنی نکاح حرام ہونا )ثابت ہو جائے گی(کیوں کہ دودھ کا رشتہ قائم ہو جائے گا ) اور اس کے بعد اگر پیا، توحرمت نکاح نہیں اگرچہ پلانا جائز نہیں۔ (بہار شریعت ج ۲ص۳۶)