Brailvi Books

دودھ پیتا مدَنی مُنّا
49 - 64
دودھ کے بارے میں دو فرامین مصطَفٰے  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
{۱}گائے کا دودھ استعما ل کرو (یعنی پیا کرو)کیونکہ یہ ہر درخت سے غذا حاصل کرتی ہے اور اس میں ہر بیماری سے شفا ہے ۔ (مُسندِ امامِ اعظم ص۲۰۷،اَلمُستَدرک ج ۵ ص ۵۷۵ حدیث ۸۲۷۴ ) {۲}جب کوئی شخص دودھ پئے تو کہے( یعنی یہ دُعا پڑھے): ’’اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہ۔‘‘(ترجمہ:اے__! ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں مزید عطا فرما) کیونکہ دودھ  کے سوا ایسی کوئی چیز نہیں جو کھانے اور پانی دونوں کی جگہ کفایت کرے۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۵ص۱۰۴حدیث۵۹۵۷)یعنی صرف دودھ میں وہ نعمت ہے جو بھوک وپیاس دونوں کو رفع(دور) کرتا ہے، لہٰذا یہ غذا بھی ہے اور پانی بھی۔(مراٰۃ المناجیح ج۶ص۸۰)