Brailvi Books

دودھ پیتا مدَنی مُنّا
42 - 64
پالو تو دیوار سے ایک کیل نکال لیا کرو۔ بیٹے نے ایسا ہی کیا اور بہت جلد دیوار میں لگی ہوئی کیلیں جن کی تعداد 100ہوچکی تھی نکالنے میں کامیاب ہوگیا ۔اب ابو جان نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور دیوار کے پاس لے جاکر کہنے لگے : بیٹا ! تم نے اپنے غصے پر قابوپایا بہت اچھا کیا مگر اس دیوارکو دیکھو ! یہپہلے جیسی نہیں رہی اس میں سوراخ کتنے برے لگ رہے ہیں ، جب تم غصے میں چیختے چلاتے اور اُلٹی سیدھی باتیں کرتے ہو تو اِس سے دوسروں کے دل میں گویا چاقو(Knife) گھونپتے ہو ،پھر تم معذرِت (Sorry ) بھی کرلو تب بھی اس سے دوسروں کے دل کا زخم جلد ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ زبان کا زخم چاقو کے زخم سے زیادہ گہرا ہوتا ہے ۔یہ سن کر بچے نے دوسروں کا دل دکھانے سے توبہ کرلی اور معافی بھی مانگ لی ۔ (غصّے کی عادت نکالنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کا رسالہ’’ غصّے کا علاج‘‘ پڑھئے)