Brailvi Books

دودھ پیتا مدَنی مُنّا
34 - 64
{۱۳} پرندے کو تِیر مار رہے تھے
       حضرتِ عبدُاللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاقریش کے چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جو ایک پرندے(Bird) کو باندھ کر اُس پر(تیروں سے) نشانہ بازی کر رہے تھے۔ جب انہوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو آتے دیکھا توادھر ادھر ہو گئے۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا:’’یہ کس نے کیا ہے؟ اللہ تَعَالٰی ایسا کرنے والے پر لعنت کرے، بے شک رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کسی ذِی رُوح (یعنی جاندار)کو تیر اندازی کا نشانہ بنانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘ ( مُسلم ص۱۰۸۲ حدیث۱۹۵۸)