Brailvi Books

دودھ پیتا مدَنی مُنّا
32 - 64
 یہ بددعا نکل گئی : ’’جس طرح تونے اِس بے زُبان کی ٹانگ کاٹی ہے، اللہ تَعَالٰی  تیری ٹانگ کاٹے ۔ ‘‘ بات آئی گئی ہو گئی،کچھ عرصے کے بعد تعلیم حاصل کرنے کیلئے میں نے ’’بخارا ‘‘ شہر کا سفر کیا،  راستے میں سواری سے گر پڑا، ٹانگ پر شدید چوٹ لگی،’’ بخارا‘‘ پہنچ کر کافی علاج کیا مگر تکلیف نہ گئی اور ٹانگ کٹوانی پڑی ۔ (اوریوں ماںکی بددعا پوری ہوئی) (حَیاۃُ الحَیَوان ج ۲  ص۱۶۳) 
	 میٹھے میٹھے مَدَنی منو اورمَدَنی منیو! اس ’’سچی کہانی‘‘ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان تو انسان ہمیں کسی جانور کو بھی تکلیف نہیں پہنچانی چاہئے،بعض بچے مرغی کے چوزوں ، بلی اور بکری کے بچوں وغیرہ کو مارتے ، اٹھا کر زمین پر پھینکتے ہیں ، انہیں ہرگز ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔