گئے تھے اُن کو اُن کا حصہ دے دیا گیا۔(شُعَبُ الْاِیمان ج۵ص۹۹حدیث۳۵ مُلَخَّصاً )
میٹھے میٹھے مَدَنی منو اورمَدَنی منیو! ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بچوں پر بڑی شفقت فرماتے تھے جبھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو دوسروں سے زیادہ دیااس لئے کہ وہ بچّے تھے۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جب کوئی چیز تقسیم کی جارہی ہو تو آپ نے کسی سے ڈبل حصہ مانگنانہیں ہے ،ہاں! اگر چیز بانٹنے والا خود ہی آپ کو زیادہ دے دے تو لے لینے میں کوئی حرج نہیں ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد