ہے لیکن ہم سادگی پسند ہیں (حالانکہ تن کے کپڑے ،کھانے کے برتن وغیرہ بہ بانگِ دُہُل ’’سادَگی‘‘ کا منہ چِڑارہے ہوتے ہیں ) {۱۰}میں نے اپنی بیٹی یا بیٹے کی شادی بَہُت سادَگی سے کی ہے (حالانکہ جتنا شاہی خرچ اس شادی پر ہوا ہوتا ہے اُس رقم میں غریب گھرانے کی شاید 100شادیاں ہو جائیں ) {۱۱} بس جی ! سب کچھ بچوں کے حوالے کردیا ہے ،کاروبار سے اپنا کوئی لینا دینا ہی نہیں !(یہ بات کہنے والے کو کوئی اس وقت دیکھے جب یہ اپنی اولاد سے کاروبار کا باقاعدہ حساب لے رہے ہوتے اور ان کے کان کھینچ رہے ہوتے ہیں ) {۱۲}مالداری کی وجہ سے کبھی تکبُّر نہیں کیا ( ایسا کہنے والے کو کوئی اُس وقت دیکھے جب یہ کسی غریب رشتے دار کوحقارت سے دھتکار رہے ہوں ،اس سے ہاتھ ملانا اپنی کسرِشان قرار دے رہے ہوں ،یا اپنے ملازمین پر برس رہے ہوں ){۱۳}جی چاہتا ہے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مدینے جابسوں (واقعی جی چاہتا ہو تو مرحبا! ورنہ جھوٹ) {۱۴}کبھی کسی پر اپنی مالداری کا رعب نہیں ڈالا ( کسی کے یہاں شادی بیاہ وغیرہ کی تقریب میں حسبِ منشا آؤبھگت نہ ہونے کی صورت میں ان کے منہ سے جھڑنے والے پھولوں کو کوئی دیکھے یا کسی جگہ یہ اپنا تعارُف خود کرواتے دکھائی دیں کہ مابدولت اتنی اتنی فیکٹریوں کے مالک ہیں وغیرہ وغیرہ تو اس جملے کی حقیقت سامنے آجائے گی ){۱۵}یہ مالداری توبس ظاہِری ہے، دل کاتومیں فقیر ہوں (ان کاروحانی سی ٹی اسکین کریں تو شاید حرص ولالچ سرفہرست ہوں){۱۶}ہم اپنے ملازِموں کو نوکر نہیں گھر کا فرد سمجھتے ہیں (اُن کے ملازموں کا دل ٹٹولا جائے توڈھول کاپول سامنے آجائے گا کہ ان بے چاروں کے ساتھ کس طرح کتّوں سے بھی بدتر سلوک کیا جارہا ہوتا ہے )