’’جھوٹا جہنَّمی ہوتا ہے‘‘ کے سولہ حُرُوف کی نسبت سے مالداروں کے جھوٹ کی16مثالیں
آج کل مالداری کے سبب بے شمار گناہ کئے جا رہے ہیں ، انہیں گناہوں میں یہ بھی ہے کہ بعض مالدار کئی مواقِع پر مال کے تعلُّق سے جھوٹ بولتے سنائی دیتے ہیں : اس کی 16مثالیں مُلاحَظہ ہوں لیکن کسی بات کوگناہ بھراجھوٹ اُسی صورت میں کہا جائے گا جبکہ وہ بات سچ کی اُلٹ ہو اور جان بوجھ کر کہی گئی ہواور اس میں شَرْعی اجازت ورخصت کی بھی کوئی صورت نہ ہو مَثَلاً{۱}مجھے مال سے کوئی مَحَبَّت نہیں {۲} میں تو صرف بچّوں کیلئے کماتا ہوں {۳} میں تو صرف اس لئے کماتا ہوں کہ ہر سال مدینے جا سکوں {۴} میں تو راہِ خدا میں لٹانے کیلئے کماتا ہوں ( حالانکہ سالانہ فقط ڈھائی فیصد زکوٰۃ نکالنے کو بھی جی نہیں چاہتا، غریبوں کو خوب دھکّے کھلائے جارہے ہوتے ہیں ){۵}چوری ہونے، ڈاکا پڑنے،آتَش زدَگی یا کسی بھی سبب سے مالی نقصان ہو جانے پر کہنا ـ : ’’مجھے اِس کاکوئی غم نہیں ‘‘ (حالانکہ واویلا بھی جاری ہو تا ہے){۶} شاندار کوٹھی( بنگلا) بنا کر یانئے ماڈل کی بہترین کار حاصل کر نے کے بعد کہنا: ’’یار! اپنا کیا ہے! یہ تو بس بچّوں کا شوق پورا کیا ہے۔‘‘ (حالانکہ خود اپنا دل خوب آسائش پسند ہوتا ہے){۷}اِتنا کمالیا ہے کہ بس اب جی بھر گیا ہے(حالانکہ کہنے والا بڑے جذبے کے ساتھ کمانے کا سلسلہ جاری رکھتا اور نئے نئے کاروبار شروع کئے جارہا ہوتا ہے ) {۸} میں بالکل فُضول خرچی نہیں کرتا (جب کہ جینے کااندازکچھ اور ہی داستان سنا رہا ہوتاہے!){۹}اللہ نے بَہُت کچھ دیا