مَحَبَّت سے خالی ہو ، اُس کا مال اُس کو ربِّ ذوالجلال سے غافِل نہ کرے اوروہ اپنے مال کے تمام شرعی حُقُوق بھی بجا لاتا ہو تو یقینا وہ ایک اچّھا مسلمان ہے، لیکن کسی دولت مند کا ایسا ہونانہایت مشکل ہے۔ دولت مندوں کے پاس غریبوں کے مقابلے میں عُمُوماً گناہوں کے اسباب زیادہ ہوتے ہیں ۔ جس کے پاس گناہوں کے اسباب زیادہ ہوں اُس کا گناہوں سے بچنا زیادہ دشوار ہوتا ہے ۔نیز دنیا میں جس کے پاس مال زیادہ اس پر آخِرت میں حساب کا وبال بھی زیادہ ۔چُنانچہِ
حلال مال کی کثرت سے کترانا(حکایت)
حضرتِ سیِّدُناابودَرْدا ء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :میں تو اِس بات کو بھی پسند نہیں کرتا کہ مسجد کے دروازے ہی پر میری دُکان ہو،تا کہ کاروبار مجھے نماز اورذِکرُاللّٰہ سے غافل نہ کرے نیز ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ناپسند ہے کہ مجھے اس دکان سے روزانہ 50دینار(یعنی 50سونے کی اشرفیوں ) کا نفع بھی حاصل ہو رہا ہو جسے میں راہِ خدا میں صَدَقہ کردیا کروں ! عرض کی گئی:آپ اس بات(یعنی اِس قدر آسان ، حلال اور نیکیوں بھری کثیر کمائی) کو کیوں ناپسند فرماتے ہیں ؟ فرمایا: ’’آخِرت کے حساب کتاب کی سختی کی وجہ سے۔‘‘ (اِحیاءُ الْعُلوم ج۴ ص۶۰۳)کیوں کہ آخِرت کا حساب حلال مال پر بھی ہے اور جو حرام مال ہے اُس پر تو عذاب ہے۔
صَدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب
بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے (حدائقِ بخشش ص۱۷۱ مکتبۃ المدینہ)